بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لےپالک بچی کےاحکام


سوال

میں اپنی بیٹی جو ابھی تین ماہ کی ہے اپنے بھائی کو گود دینا چاہتا ہوں،  اس کی اولاد نہیں ہے۔ کیا میرا بھائی اس کو اپنے نام سے رجسٹرڈکروا سکتا ہے؟ کیا اپنی بیٹی بھائی کو گود دے سکتا ہوں ؟ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ لے پالک بچی کے حوالے سے مکمل تفصیل سے آگاہ فرما دیں!

جواب

واضح رہےکہ کچھ رشتےمحض زبان کی بول سےبن جاتےہیں، جیسے: میاں بیوی کارشتہ ایجاب وقبول سےوجود میں آجاتاہے، اور کچھ رشتےفطری ہوتےہیں، جو نہ زبان کی بول سےبنائےجاسکتےہیں اور نہ ختم کئےجاسکتےہیں۔ ان میں سےایک رشتہ والدین اوراولاد کارشتہ ہے، اگرکوئی کسی کی اولادہو، توہزارباروالدین اپنی اس اولاد سےکہےکہ توہماری اولاد نہیں، پھربھی وہ شرعاً ان  کی اولاد ہی رہےگی، اسی طرح اگرکوئی کسی کی اولادنہ ہو، اس سےوہ پیدانہیں ہوا، تو اس بچہ کےحوالہ سےوہ کہےکہ یہ ہمارابیٹاہے، اس کہنےسےیارجسٹرڈ میں اس کی نسبت اپنی طرف کرنےسےوہ بچہ اس کی اولاد میں سےنہیں بن سکتا، اور شریعت نے جوحقوق اور احکام نسبی اولاد کےلئےوضع کیے ہیں، اس میں سےکوئی حکم اس لےپالک کےلئےثابت نہیں ہوسکتا۔ مثلاً: میراث میں نسبی اولاد کاحصہ ہے، لےپالک کامیراث میں کوئی حصہ نہیں، محرمیت کےحوالہ سےحکم یہ ہے کہ نسبی اولاد محرم ہوتےہیں ، اوراگرلےپالک میں کوئی اورسبب محرمیت کانہیں پایاجاتاہو، تومحض اسےبیٹابولنےاوراسےگود لینےاور اس کی پرورش کرنےسےوہ محرم نہیں بنتا۔نیزکسی کی نسبت اس کےحقیقی باپ کےعلاوہ کسی اورکی طرف کرناسخت گناہ ہے، قرآن کریم کاصریح حکم ہےکہ لوگوں کوان کی باپ کی طرف نسبت کرکےہی پکارو، اورحدیث شریف میں قصداً اپنےباپ کےعلاوہ کسی اورکی طرف نسبت کرنےوالےکےلئےسخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک جگہ ارشادہےکہ: " جس نےاپنےباپ کےعلاوہ کسی اورکی طرف نسبت کی اس پرجنت حرام ہے" ، اس لئےرجسٹرڈ کروانےمیں بچوں کی نسبت ان کےحقیقی باپ کی طرف ہی کی جائے۔

باقی اگرکوئی کسی بچہ کوگود لیتاہے، کہ اس کی اچھی پرورش و اچھی کفالت کرلےگا، اپنی اولاد کی طرح ان کی دیکھ بھال کرےگا، تو بالکل اس کی اجازت ہے۔ گودلینےوالے اس بچہ کوبیٹاکہہ کر، اورلےپالک ان کو ماں، باپ کہہ کرپکار بھی سکتے ہیں، البتہ احکام ان کےلئےحقیقی اولاد کی طرح ثابت نہیں ہوں گے، جن کی تفصیل پہلےبیان کی گئی ۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں سائل اپنی بچی پنےبھائی کو گود دےسکتاہے، اوربھائی اس کی اچھی کفالت وپرورش کرکےثواب کاحقدار بھی ہوگا، البتہ اسےحقیقی والدہی کےنام سےرجسٹرڈ کروائےگا، گود لینےوالےبھائی کےنام سےرجسٹرڈ کروانا ناجائز ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

" وَمَا جَعَلَ أَدعِيَآءَكُم أَبنَآءَكُم ذَلِكُم قَولُكُم بِأَفواهِكُمۡۖ وَاللَّهُ يَقُولُ الحَقَّ وَهُوَ يَهدِي السَّبِيلَ ۔ ادعُوهُم لِأبَآئِهِم هُوَ أَقسَطُ عِندَ اللَّهِۚ فَإِن لَّم تَعلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُم فَإِخوانُكُم فِي الدِّينِ وَمَوالِيكُم۔۔۔۔۔[الاحزاب: 4، 5]

ترجمہ: اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا ( سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنا دیا ۔ یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا رستہ بتلاتا ہے۔ تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو یہ سب اللہ کے نزد یک راستی نزدیک کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔۔۔[ از بیان القرآن]

مشکاۃ شریف میں ہے:

" من ادعى ‌إلى ‌غير ‌أبيه أو تولى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل"

(كتاب المناسك،‌‌باب حرم المدينة حرسها الله تعالى، الفصل الاول، ج: 1، ص: 238، ط: قدیمی)

کفایت المفتی میں ہے:

(سوال) متبنی بنا نا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟

(جواب ٤٥٦ ) تبنیت یعنی کسی دوسرے کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنانا یعنی حقیقی بیٹے کے احکام اس پر مترتب کرنا جیسا کہ عرب میں دستور تھا اور اب بھی ہندوؤں اور بعض دوسری قوموں میں مروج ہے منسوخ اور مردود ہو چکا۔ اس میں کوئی نزاع نہیں۔ یہ شرعا اور عقلا باطل ہے کہ مخلوق من ماء عمر و ابن زید ہو جائے۔ رہی یہ بات کہ اگر زید عمرو کے بیٹے کولے کر اپنے بیٹے کی طرح پرورش اور تربیت کا تکفل کرے اور یہ کہے کہ میں نے عمرو کے بیٹے کو بیٹا کر لیا ہے۔ یعنی مثل اپنے بیٹے کے اس کی پرورش و تربیت کا کفیل ہو گیا ہوں۔ ہے وہ عمر وہی کا بیٹا۔ میر احقیقتاً بیٹا نہیں ہے ہاں متبنیٰ ہے تو اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں،  قرآن پاک کی آیت " ما جعل ادعیاء کم ابناء كم " اور " ادعوهم لا بائهم"  اور عبارات تفسیر  یہ سب اسی تبنیت کے متعلق ہیں جس میں ان حقیقی کے احکام متبنی پر جاری کئے جاتے تھے۔ اور حقیقی باپ سے نسبت منقطع کر کے متبنی بنانے والے کی طرف مثل حقیقی بیٹوں کے منسوب کر دیا جاتا تھا۔ لیکن جب کہ یوں کہا جائے کہ زید بیٹا تو محمود کا ہے مگر خالد نے اسے پرورش و تربیت کے لئے منہ بولا بیٹا بنا لیا ہے۔ خالد اپنی زندگی تک یا ایک مدت معینہ تک اس کے مصارف کا متکفل ہے، وہ خالد کا وارث نہیں اور کوئی حکم حقیقی بیٹے کا اس پر جاری و ثابت نہیں تو اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں۔

(سوال) متبنی بنا نا شرعاً جائز ہے یا ہیں ؟

(جواب ٤٥٦ ) تبنیت یعنی کسی دوسرے کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنانا یعنی حقیقی بیٹے کے احکام اس پر مترتب کرنا جیسا کہ عرب میں دستور تھا اور اب بھی ہندوؤں اور بعض دوسری قوموں میں مروج ہے منسوخ اور مردود ہو چکا۔ اس میں کوئی نزاع نہیں۔ یہ شرعا اور عقلا باطل ہے کہ مخلوق من ماء عمر و ابن زید ہو جائے۔ رہی یہ بات کہ اگر زید عمرو کے بیٹے کولے کر اپنے بیٹے کی طرح پرورش اور تربیت کا تکفل کرے اور یہ کہے کہ میں نے عمرو کے بیٹے کو بیٹا کر لیا ہے۔ یعنی مثل اپنے بیٹے کے اس کی پرورش و تربیت کا کفیل ہو گیا ہوں۔ ہے وہ عمر وہی کا بیٹا۔ میر احقیقتاًبیٹا نہیں ہے ہاں متبنیٰ ہے تو اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں،  قرآن پاک کی آیت"  ما جعل ادعیاء کم ابناء كم " اور "ادعوهم لا بائهم "  اور عبارات تفسیر  یہ سب اسی تبنیت کے متعلق ہیں جس میں ابنِ حقیقی کے احکام متبنی پر جاری کئے جاتے تھے۔ اور حقیقی باپ سے نسبت منقطع کر کے متبنی بنانے والے کی طرف مثل حقیقی بیٹوں کے منسوب کر دیا جاتا تھا۔ لیکن جب کہ یوں کہا جائے کہ زید بیٹا تو محمود کا ہے مگر خالد نے اسے پرورش و تربیت کے لئے منہ بولا بیٹا بنا لیا ہے۔ خالد اپنی زندگی تک یا ایک مدت معینہ تک اس کے مصارف کا  متکفل ہے، وہ خالد کا وارث نہیں اور کوئی حکم حقیقی بیٹے کا اس پر جاری و ثابت نہیں تو اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں۔

 (کتاب النکاح، باب19متبنی، ج: 5، ص: 277، ط: دارالاشاعت) 

فقط و الله اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100377

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں