
جو لوگ دوسروں کا بچہ لے کر پالتے ہیں اور اس کو اس کے والد کی جگہ اپنا نام دے دیتے ہیں، کیا یہ درست ہے؟ جب کہ قرآن میں حکیم ہے کہ اس کے اصلی باپ کے نام سے ہی پکارو۔
بصورتِ مسئولہ پالنے والے شخص کے لیے بچہ کو پالنا اس کی پرورش اور تربیت کرنا تو جائز اور باعث ثواب ہے لیکن لے پالک بچہ کو اس کے والد کے بجائے اپنی طرف منسوب کرنا نصوصِ شرعیہ (قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ) کی خلاف ورزی کی وجہ سے صریح حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں ایسے شخص کے لیے سخت وعیدیں وارد ہیں، حتی کہ بعض روایات میں ایسے آدمی پر جنت کے حرام ہونے تک کا ذکر بھی وارد ہوا ہے، لہذا کسی دوسرے شخص کے بچہ کو اپنی طرف منسوب کرنے سے مکمل احتراز ضروری ہے۔
سورة الأحزاب میں ہے:
"اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَا اَخْطَاْتُمْ بِهٖ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا."
ترجمہ: ’’تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو، یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے، اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی ہیں، اور تمہارے دوست ہیں، اور تم کو اس میں جو بھول چوک ہوجاوے تو اس سے تم پر کچھ گناہ نہ ہوگا، لیکن ہاں دل سے ارادہ کر کے کرو اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔‘‘ (از بیان القرآن)
تفسير روح المعاني میں ہے:
"ويعلم من الآية أنه لا يجوز انتساب الشخص إلى غير أبيه، وعد ذلك بعضهم من الكبائر لما أخرج الشيخان، وأبو داود عن سعد بن أبي وقاص أن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم قال: من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام. وأخرج الشيخان أيضا : من ادعى إلى غير أبيه أو انتمى إلى غير مواليه فعليه لعنة الله تعالى والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله تعالى منه صرفا ولا عدلا. وأخرجا أيضا ليس من رجل ادعى لغير أبيه وهو يعلم إلا كفر. وأخرج الطبراني في الصغير من حديث عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده وحديثه حسن قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كفر من تبرأ من نسب وإن دق أو ادعى نسبا لا يعرف، إلى غير ذلك من الأخبار."
(سورة الأحزاب، الآية: ٥، ١١/ ١٤٧، ط: دار الكتب العلمية)
رد المحتار على الدر المختار میں ہے:
"[فروع] الإقرار بالولد الذي ليس منه حرام كالسكوت لاستلحاق نسب من ليس منه.
(قوله: الإقرار بالولد إلخ) قال عليه الصلاة والسلام حين نزلت آية الملاعنة : أيما امرأة أدخلت على قوم من ليس منهم فليست من الله في شيء ولن يدخلها الله جنته، وأيما رجل جحد ولده وهو ينظر إليه احتجب الله عنه يوم القيامة وفضحه على رءوس الأولين والآخرين. رواه أبو داود والنسائي. وفي الصحيحين عنه عليه الصلاة والسلام : من ادعى أبا في الإسلام غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام. كذا في الفتح."
(كتاب الطلاق، باب اللعان، ٣/ ٤٩٣، ط: سعيد)
فقط والله تعالى أعلم
فتویٰ نمبر : 144705100343
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن