
ہماری شادی کو نو سال گزر چکے ہیں، لیکن ابھی تک ہماری کوئی اولاد نہیں، ہم میاں بیوی نے یہ سوچا کہ کسی بچے کو گود لے کر اس کی پرورش کریں۔ایک عورت ہے جسے کچھ ماہ پہلے اس کے شوہر نے طلاق دے دی تھی، اب اس کے شوہر کا کوئی پتہ نہیں، وہ عورت حاملہ ہے اور یہ اس کا پہلا بچہ ہے، وہ خود اس بچے کی پرورش نہیں کرنا چاہتی، کیونکہ وہ آگے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے، اس عورت کے والد کا انتقال ہو چکا ہے، ایک چھوٹا بھائی ہے ، مالی اعتبارسے بہت غریب ہیں، اس عورت کا کہنا ہے کہ جو شخص اس بچے کو گود لینا چاہے، وہ اس کی پیدائش کا خرچ برداشت کرے اور پھر بچہ اپنے ساتھ لے جائے، اس کے بعد اس بچے کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
ایسی صورت میں چونکہ باپ کا پتہ نہیں ہے اور ماں بھی بچے سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی، تو ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دنیاوی معاملات، مثلاً شناختی کارڈ وغیرہ میں اس کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟
کیا ہم اپنے نام کو اس بچے کے والدین کے طور پر درج کرا سکتے ہیں؟ بعد میں جب وہ بالغ ہو جائے تو ہم اسے حقیقت سے آگاہ کر دیں کہ ہم اس کے حقیقی والدین نہیں ہیں۔
مزید یہ کہ اگر یہ بچہ لڑکا پیدا ہو اور جوان ہو جائے، تو کیا میری بیوی کے لیے اس سے پردہ لازم ہوگا؟
اگر کسی شخص کی اولاد نہ ہواور وہ کسی دوسرے شخص سے کوئی بچہ گود لیتا ہے تو یہ شرعی طور پر جائز ہے۔ جو شخص بچے کو گود لے رہا ہے وہ اس غرض سے اس بچے کو اپنے پاس رکھے کہ میں اس کی تربیت وپروش کروں گا، اور اسے بیٹے کی طرح رکھوں گا، اوراس کے اخراجات ومصارف اٹھاؤں گا،تو یہ باعث ثواب ہے ۔، لیکن اس میں چند باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
ایک بات تو یہ کہ لے پالک بچوں کی نسبت ان کے حقیقی والدین ہی کی طرف کی جائے، جن کی پشت سے وہ پیدا ہوئے ہیں، اس لیے کہ کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے شرعاً وہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد والے اَحکام جاری ہوتے ہیں، البتہ گود میں لینے والے کو پرورش ، تعلیم وتربیت اور ادب واخلاق سکھانے کا ثواب ملے گا، جاہلیت کے زمانہ میں یہ دستور تھا کہ لوگ لے پالک اور منہ بولے اولاد کو حقیقی اولاد کا درجہ دیتے تھے ، لیکن اسلام نے اس تصور ورواج کو ختم کرکے یہ اعلان کردیا کہ منہ بولے اولاد حقیقی اولاد نہیں ہوسکتے، اور لے پالک اور منہ بولے اولاد کو ان کے اصل والد کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے۔
نیز اس میں اس بات کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ اگر گود لینے والا یا ولی اس بچے کے لیے نا محرم ہو تو بلوغت کے بعد پردے کا اہتمام کیا جائے، محض گود لینے سے محرمیت قائم نہیں ہوتی۔ البتہ اگر گود لینے والی عورت اس بچے کو رضاعت کی مدت میں دودھ پلادے تو وہ اس بچے کی رضاعی ماں بن جائے گی، اور اس کا شوہر رضاعی باپ بن جائے گا یا گود لینے والے بچے کو اس عورت کی بہن دودھ پلادے تو یہ عورت اس کی رضاعی خالہ بن جائے گی، اس صورت میں گود لینے والی سے بچے کے پردے کا حکم نہیں ہوگا، اسی طرح اگر بچی گود لی ہو تو شوہر کی بیوی یا بہن وغیرہ اس کو مدتِ رضاعت میں دودھ پلادے ۔
تیسرا یہ کہ وراثت کے معاملہ میں بھی گود لینے والے کو باپ کا درجہ نہیں دیا جائے گا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل چوں کہ اس بچے کا حقیقی والد نہیں ہے؛ اس لیے وہ بطورِ والد اس بچے کے کاغذات میں اپنا نام نہیں لکھ سکتا؛ کیوں کہ لے پالک بچے کو حقیقی والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے، چاہے حقیقی والد کا علم ہو یا نہ ہو، البتہ اگر کاغذات وغیرہ بنوانے کے لیے کسی سرپرست کا نام ضروری ہو تو سائل اپنا نام ان میں بطورِ سرپرست لکھوا سکتا ہے، اس میں حرج نہیں۔
نیز بچہ کا لڑکا ہونے کی صورت میں بالغ ہونے کے بعد سائل کی بیوی کا اس سے پردہ کرنا ضروری ہے، البتہ اگر سائل کی بیوی اس بچے کو رضاعت کی مدت میں دودھ پلادے، تو وہ اس بچے کی رضاعی ماں بن جائے گی، اور اس کا شوہر رضاعی باپ بن جائے گا یا گود لینے والے بچے کو اس عورت کی بہن دودھ پلادے تو یہ عورت اس کی رضاعی خالہ بن جائے گی، اس صورت میں سائل کی بیوی سے بچے کے پردے کا حکم نہیں ہوگا۔
ارشاد باری تعالی ہے :
{وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا } ( الأحزاب:4،5)
ترجمہ: ” اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنادیا یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے ، تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں اور تم کو اس میں جو بھول چوک ہوجاوے تو اس سے تم پر کچھ گناہ نہ ہوگا، لیکن ہاں دل سے ارادہ کر کے کرو (تو اس پر مؤاخذہ ہوگا)، اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔“ (از بیان القرآن)
بخاری شریف میں ہے :
"أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام."
ترجمہ: ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے (نسبت کرتے ہوئے) اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کو اپنا باپ بتایا، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے، تو اس پر جنت حرام ہے۔“
(كتاب المغازي، باب: غزوة الطائف.، ج:4، ص:1572، رقم الحدیث:4071، ط:دار ابن كثير، دار اليمامة)
التفسیر المظہری میں ہے:
"فلا يثبت بالتبني شىء من أحكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك."
(سورۃ الأحزاب، آیة:5، ج:7، ص:284، ط:رشیدیه)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144704101302
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن