
اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اپنے بھائی کی اولاد کو گود لیا ہے، تو کیا شرعًا اس بیٹے کی نسبت اپنی طرف کی جا سکتی ہے کہ اس کی ولدیت اپنی طرف منسوب کی جائے؟
نیز کیا یہ گود لیا ہوا لے پالک بیٹا میری میراث کا حق دار ہوگا یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں گود لیے ہوئے بھتیجے کی ولدیت میں اس کے حقیقی والد کی جگہ اپنا نام لکھوانا شرعًا جائز نہیں ہے، بلکہ اس کے حقیقی والد ہی کا نام لکھنا ضروری ہے، البتہ پالنے والا بطور سرپرست اپنا نام درج کرواسکتا ہے۔
باقی اگر سائل کی اہلیہ، والدین یا بھائی بہن موجود ہوں، تو گود لیا ہوا یہ بھتیجا شرعًا سائل کا وارث نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں اگر سائل اپنی زندگی میں اسے کچھ گفٹ کرنا چاہے، تو قبضہ و تصرف دے کر مالک بنا کر گفٹ کر سکتا ہے، اور اس کے وارث نہ ہونے کی وجہ سے اس کے لیے تہائی مال تک وصیت بھی کر سکتا ہے۔ لیکن اگر سائل کے والدین یا بھائی بہن نہ ہوں تو یہ بھتیجا سائل کے شرعی وارثوں میں شامل ہوگا، اور اپنے شرعی حصّے کے بقدر سائل کے میراث کا حق دار ہوگا۔
قرآن كريم میں ہے:
"وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ." (سورۃ الأحزاب، آیة:4)
ترجمہ: ”اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنادیا، یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے۔“ (از بیان القرآن)
تفسیرِ مظہری میں مذکورہ بالا آیت کے تحت ہے:
"فلا يثبت بالتبني شىء من أحكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك. وفي الآية ردّ لما كانت العرب تقول من أن اللبيب الأريب له قلبان، والزوجة المظاهر منها تبين من زوجها وتحرم عليه كالأم ودعي الرجل ابنه يرثه ويحرّم بالتبني ما يحرم بالنسب."
(ج:7، ص:284، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل.....
وفي الرد: (قوله: ويقدم الأقرب فالأقرب إلخ) أي الأقرب جهة ثم الأقرب درجة ثم الأقوى قرابة فاعتبار الترجيح أولا بالجهة عند الاجتماع، فيقدم جزؤه كالابن وابنه على أصله كالأب وأبيه ويقدم أصله على جزء أبيه كالإخوة لغير أم وأبنائهم، ويقدم جزء أبيه على جزء جده كالأعمام لغير أم وأبنائهم وبعد الترجيح بالجهة إذا تعدد أهل تلك الجهة اعتبر الترجيح بالقرابة، فيقدم الابن على ابنه والأب على أبيه والأخ على ابنه لقرب الدرجة، وبعد اتحاد الجهة والقرابة يعتبر الترجيح بالقوة، فيقدم الأخ الشقيق على الأخ لأب، وكذا أبناؤهم، وكل ذلك مستفاد من كلام المصنف."
(كتاب الفرائض، فصل في العصبات، ج:6، ص:774، ط:ايج ايم سعيد كراتشي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101993
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن