بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لیّہ Layya نام کا معنی


سوال

لیّہ Layya نام کا  معنی؟

جواب

"لِيّہ  "(Leyyah)لام کے کسرہ اور یاء کی تشدید کے ساتھ ،ایک جگہ کا نام ہے ،جو کہ طائف  کے قریب ہے ،جس کا ذکر احادیث میں بھی  آیا ہوا ہے ۔

اسی طرح" لَیّہ "لام کے فتحہ اور یاء کی تشدید کے ساتھ عبرانی  زبان کا لفظ ہے ،جس کے معنی   "لچکدار"،"نرم" ،"لپیٹنا"،"تھکی ہوئی "،"غمگین "یا " موڑ" کے ہیں ۔اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی پہلی بیوی کا نام بھی" لیہ" تھا،جو کہ حضرت راحیل کی بڑی بہن تھی ۔

اور یہ لفظ "لی"کے مادے سے مشتق ہے ،جو کسی چیز کے خم کھانے  یا موڑنے کو ظاہر کرتا ہے ۔

بہرحال بچی کا نام لیہ رکھنا درست ہے ،البتہ بہتر یہ ہے کہ صحابیات رضی اللہ عنھن کے ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے ۔

مسند أحمد میں ہے :

"عن عروة بن الزبير، عن الزبير، قال: أقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مِنْ لِيَّةَ ، حتى إذا كنا عند السدرة، وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم في طرف القرن الأسود حذوها، فاستقبل نخبا ببصره - يعني واديا - ووقف حتى اتفقت الناس كلهم، ثم قال: " إن صيد وج وعضاهه حرم محرم لله " وذلك قبل نزوله الطائف وحصاره ثقيف".

"وشرح أبي داود. "‌لية" بكسر اللام وتشديد الياء التحتية: موضع من نواحي الطائف".

(مسند الخلفاء الراشدین ،و من أخبار عثمان بن عفان ،ج:3، ص: 32 ،ط: الرسالة)

مسند أبي داود الطيالسي میں ہے :

"عن أم سلمة قالت: «دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أختمر، فقال: ‌لَيَّةٌ، لَا لَيَّتَانِ".

ترجمہ:"ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے  پاس اس حال میں  تشریف لائے ،کہ میں دوپٹہ اوڑھ رہی تھی ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسم نے فرمایا :ایک لپیٹ (لپیٹو)دو لپیٹیں نہیں "۔

 (مسند عائشه أم المومنین ،ماروت أم سلمة،ج:3، ص: 185،ط:دار ھجر)

لسان العرب میں ہے :

"وقال الفراء: عويت العمامة عيةولَوَيتُها ‌لَيَّةً".

(و۔ي ،فصل العين المھملة، ج:15،ص: 109، ط:دار صادر)

وفیہ ایضا:

"لوي: لويت الحبل ألويه ليا: فتلته. ابن سيده: اللي الجدل والتثني، لواه ليا، والمرَّةُ مِنْهُ ‌لَيَّةٌ، وجمعه لوى ككوة وكوى؛ عن أبي علي، ولواه فالتوى وتلوى".

(و۔ي ،فصل اللام ،ج:15،ص: 262، ط:دار صادر)

القاموس المحيط  میں ہے :

"ي: لواه يلويه ليا ولويا، بالضم: فتله، وثناه، فالتوى وتلوى، والمرة:‌لَيَّةٌ.

 (باب الواو والیاء ،فصل اللام ،ص1332،ط:موسسة الرسالة )

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144710100496

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں