
ہمارے چچا کا ایک بیٹا ہے، جس کو والد صاحب نے منہ بولا بیٹا بنایا ہوا ہے، نادرا میں اس کے والد اور والدہ کی جگہ میرے والد اور والدہ کا نام لکھوا کر ہمارے بھائی کے طور پر لکھوایا ہوا ہے، اب سوال یہ ہے کہ والد صاحب کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ میں ہمارے اس منہ بولے بھائی کا بھی حصہ ہوگا؟
واضح رہے کہ کسی بچے کو اپنا منہ بولا بیٹا یا بیٹی بنانا اور اس کی پرورش کرنا جائز ہے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ زیرِ پرورش بچے کواپنے حقیقی والد کی طرف منسوب کیا جائے، اسی طرح ان تمام جگہوں پر جہاں بچے کے ساتھ والد کا نام لکھا جاتا ہے، وہاں حقیقی والد کا نام لکھا جائے، پرورش کرنے والے کا نام ولدیت کے خانے میں لکھنا جائز نہیں ہے، نیز لے پالک اور منہ بولے بیٹے کی حیثیت اصل بیٹے کی نہیں ہوتی ہے، اصل بیٹے کو والد کے ترکہ و میراث میں سے حصہ ملتا ہے، لیکن منہ بولے اور لے پالک بیٹے کا اپنی پرورش کرنے والے کی میراث میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
قرآن کریم میں ہے:
وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ۚ. {الأحزاب:4}
تفسیر مظہری میں ہے:
"فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك."
(سورة الأحزاب، ج:7، ص:284، ط:مكتبة الرشد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144708100089
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن