بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کو سرجری کے ذریعہ لڑکا کروانے کے بعد وراثت کا حکم


سوال

میرے سسر کا انتقال ہوگیا، ان کے ورثاء میں  ایک بیوہ، اور سات بیٹیاں تھیں،بیٹانہ ہونے کی وجہ سے دو بیٹیوں کی سرجری کے ذریعہ بیٹا  بنا دیاتھا، ان دونوں نے بیس بائیس سال تک لڑکیوں کی طرح زندگی گزاری تھی،پہلے ان کا نام روزینہ اور بشریٰ تھا،اور اب ان کا نام غلام مصطفیٰ اور غلام مرتضیٰ رکھ دیا گیا ہے،اب سوال یہ ہے کہ وراثت میں ان دونوں کو بیٹے والا حصہ ملے گا یا بیٹی والا؟

سسر کے انتقال کے وقت ایک بھائی اور تین بہنیں حیات تھیں،اس کے بعد بہن کا انتقال ہوا،ان کے ورثاء میں شوہر تین بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں۔

اس کے بعد سسر کے ایک بھائی کا بھی انتقال ہوگیا،ان کے ورثاء میں بیوہ ،سات بیٹےاور تین بیٹیاں ہیں،پھر اس  کی بیوہ کا انتقال ہوگیا، ورثاء میں سات بیٹےاور تین بیٹیاں ہیں۔

ترکہ کی شرعی تقسیم بتا دیں۔

وضاحت:دونوں کی سرجری سسر نے اپنی زندگی میں کروائی تھی۔

جواب

اگر کوئی آدمی فطرتًا ایک ہی عضو پر پیدا ہو، اور وہ اپنی جنس تبدیل کراکر دوسری جنس اختیار کرلے ،تو ایسی صورت میں شریعت اور اللہ کی مقرر کردہ جنس میں تبدیلی اور تغیر کرنے کی وجہ سے یہ عمل ناجائز اور حرام ہوگا،ایسی صورت میں اگر  سابقہ  جنس بالکلیہ ختم ہوجائے اور اس میں دوسری تبدیل کرائی ہوئی جنس کی مخصوص  علامات ظاہر ہونا شروع ہوجائیں،اور انسانی جسم بھی انہی دوسری صفات کے مطابق عمل کرنے لگ جائے،یا اس کے جسم پر دوسری جنس کے خاص اعضاء ظاہر ہونا شروع ہوجائیں ،تو اس پر دوسری جنس کے احکامات جاری کیے جائیں گے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے سسر کی بیٹیوں کی سرجری کروا کر مکمل  جنس  تبدیل کروادی ہے، ان میں اب دوسری جنس  کی علامات ظاہر ہوگئی ہیں، تو  اب ان پر دوسری جنس والے  احکام جاری ہوں گے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے سسر نے اپنی بیٹیوں کی جنس تبدیل کی تھی تو یہ شرعاً درست نہیں تھا، تاہم اگر اس نے بیٹیوں کی جنس تبدیل کردی تھی اور وہ لڑکے بن گئے تھے تو سسر کے انتقال کے بعد انہیں لڑکوں والا حصہ ملے گا،لہذا سائل کے سسرمرحوم کی  جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کےحقوقِ متقدمہ یعنی  تجہیز و تکفین کا خرچ نکالنے کے بعد ،اگر  اس کے ذمہ کوئی قرضہ ہو  تو اس  کی ادائیگی کے بعد،  اگر انہوں نے  کوئی جائز وصیت کی ہو تو  بقیہ ایک تہائی  مال  میں سے وصیت کو نافذ کرکےباقی  ماندہ ترکہ  کو حصوں میں تقسیم  کر کےحصے مرحوم کی بیوہ کو،حصے مرحوم کی  ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت(سسر):72/8

بیوہبیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
9141477777

فیصد کے اعتبار سے12.5فیصد مرحوم کی بیوہ کو،19.44فیصد مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو،9.722فیصد مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

{فِطْرَتَ الله الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْها لا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ الله} [سورۃ الروم:۳۰]

’’اللہ کی فطرت پر قائم رہو، جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اس کی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں‘‘.

مسلم شریف میں ہے:

"عن عبد الله بن مسعود قال:’’لعن الله الواشمات والمستوشمات، والنامصات والمتنمصات، والمتفلجات للحسن، المغیرات خلق الله‘‘.

(کتاب اللباس والزینة، باب تحریم فعل الواصلة والمستوصلة، ج:2، ص:205، ط:قدیمی)

ترجمہ: ’’ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ  سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ پاک لعنت بھیجتے ہیں گودنے اور گودوانے والیوں پر اور بال اُکھاڑنے اور اُکھڑوانے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان خلا پیدا کرنے اور کروانے والیوں پر جو زینت کے لیے کرتی ہوں، یہ اللہ کی خلقت میں تبدیلی کرنے والیاں ہیں۔‘‘

فتاوی شامی میں ہے:

"(فإن بلغ وخرجت لحيته أو وصل إلى امرأة أو احتلم) كما يحتلم الرجل (فرجل، وإن ظهر له ثدي أو لبن أو حاض أو حبل أو أمكن وطؤه فامرأة۔

(قوله كما يحتلم الرجل) بأن خرج منيه من الذكر ط (قوله أو لبن) أي في ثديه كلبن النساء وإلا فالرجل قد يخرج من ثديه لبن. وفي الجوهرة: فإن قيل ظهور الثديين علامة مستقلة فلا حاجة إلى ذكر اللبن، قيل لأن اللبن قد ينزل ولا ثدي أو يظهر له ثدي لا يتميز من ثدي الرجل فإذا نزل اللبن وقع التمييز اهـ ط عن الحموي.

(قوله أو حبل)بأن أخذ المني بقطنة وأدخله فرجه فحبل ط عن سري الدين (قوله أو أمكن وطؤه) بأن اطلع عليه النساء فذكرن ذلك أفاده ط، وعبارة غيره أو جومع كما يجامع النساء"۔

(کتاب الخنثی، ج:6، ص:727، ط: سعید)

احکام تجمیل النساء میں ہے:

"وقد رأی العلماء المعاصرون تحریمها ومنعها لدلالة النقل والعقل علی منعها.

 فأما النقل : فبقول اللّٰه عز وجل: { ولآمرنهم فلیغیرن خلق اللّه } [النساء : ۱۱۹] ووجه الدلالة من الآیة : أنها من سیاق الذم وبیان المحرمات التي یسول الشیطان للإنسان بفعلها، ومن هذه المحرمات تغییر خلق اللّٰه وهذه الجراحات تشتمل علی تغییر خلق الله والعبث فیهاحسب الهوی والرغبة ، فتکون العملیة والحال هذه مذمومة شرعًا ، ومن جنس المحرمات التي یسول بها الشیطان للإنسان.

ومن السنة یقول النبي ﷺ : ’’...والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللّٰه ...‘‘. [صحیح مسلم : ۲/۲۰۵] ووجه الدلالة: أنه ﷺ جمع بین تغییر الخلقة وطلب الحسن وکلا هذین المعنیین موجودان في الجراحة التحسینیة ، فإنها تغییر للخلقة من أجل الحسن  بل والزیادة فیه، فهي علی هذا داخلة في الوعید ، ولایجوز أن تفعل".

(المبحث الثانی: جراحة التجمیل التحسینیة، ص:378، ط:داراحیاء اللغة العربیة)

 فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101851

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں