
لڑکی جس کا اپنی پسند بتانے کے باوجود اس کی مرضی کے خلاف زبردستی نکاح ہو چکا ہے ، اس صورت میں کہ اسے مجبوراً قبول کرنا پڑا عزت اور مرنے مارنے کے ڈر سے، اور اب وہاں خوش تو دور بلکہ گھٹ گھٹ کر، اپنے جذبات اور احساسات مار کر، ڈر کے رہنا پڑ رہا ہے ، یہاں تک کہ اپنی اعلی تعلیم بھی چھوڑ دی اور سوچ ایسی ہو چکی کہ دعا ہے اللہ کسی کو بیٹی نہ دے، تو اس کے لیے شریعت میں کیا حکم ہے؟ کیا یہی زندگی جینا لازم ہے یا کوئی بہتر فیصلہ لینا جائز ہے اور کیا کرنا چاہیے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ عاقل بالغ مرد یا عورت کو اس کی پسند کی جگہ کے علاوہ دوسری جگہ نکاح پر مجبور کرنا شرعاً جائز نہیں ، لیکن اگر اس طرح نکاح کردیاگیا اور لڑکے یا لڑکی نے قبول کرلیا تو شرعاً یہ نکاح منعقد ہوجاۓ گا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جب لڑکی کے بڑوں نےاپنی مرضی سے لڑکی کی شادی اس کے پسند بتانے کے باوجود دوسری جگہ کردی، اور اس نے اس نکاح کو قبول بھی کیا تو شرعاً یہ نکاح منعقد ہوچکا ہے، اب لڑکی کو چاہیے کہ وہ اس رشتے پر راضی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی رہے کہ اللہ تعالیٰ اس رشتے کو اس کے لیے باعثِ خیر و برکت بنائے، دونوں میاں بیوی کے درمیان محبت، الفت اور باہمی ہم آہنگی پیدا فرمائے، اور ان کی ازدواجی زندگی کو خوش حال بنائے، باقی اگر نباہ کی کوئی صورت نہیں تو طلاق یا خلع لے لے اور اگر وہ طلاق یا خلع دینے پر راضی نہیں تو اس پر جو ظلم وزیادتی ہورہی ہے عدالت میں فسخ نکاح کا مقدمہ دائر کرے، اور جو ظلم وزیادتی ہوئی ہے اس کو عدالت میں دومرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے ثابت کرے، اور عدالت گواہوں کی گواہی کی بنا پر نکاح فسخ کردے تو نکاح ختم ہوجاۓ گا، اس کے بعد عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت ہوگی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا أكرهت المرأة على النكاح ففعلت فإنه يجوز العقد".
(الفتاوى الهندية: كتاب النكاح، الباب السادس في الوكالة بالنكاح وغيرها (1/ 294)، ط. رشيديه)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وقد نظم في النهر ما يصح مع الإكراه فقال:طلاق وإيلاء ظهار ورجعة … نكاح مع استيلاد عفو عن العمد.
وفي الرد: (قوله نكاح) يشمل ما إذا أكره الزوج أو الزوجة على عقد النكاح كما هو مقتضى إطلاقهم، خلافا لما قيل من أن العقد لا يصح إذا أكرهت هي عليه."
( كتاب الطلاق، مطلب في المسائل التي تصح مع الإكراه، ج: 3، ص: 236، ط: سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101532
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن