بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کا رشتہ نہ آئے تو کیا کرنا چاہیے؟ رشتہ نہ آنے پر لوگوں کا طعنہ دینا کیسا ہے؟


سوال

ایک لڑکی کا اگر رشتہ نہ آئے تو کیا کرے؟اس کا رشتہ نہیں آرہا ،یہ اس کا تو قصور نہیں ہے تو پھر کیوں لوگ طعنہ دے دے کر جینا محال کر دیتے ہیں؟

جواب

رشتہ کے لیے اللہ تعالی سے خلوص نیت کے ساتھ دعا مانگنے کے ساتھ ساتھ رشتہ کے حصول کے لیے دین اسلام نے جومعیاررکھا ہے ان کو اپنانے کی کوشش کی جائے،اخلاق،عادات،طرزمعاشرت،دین داری اپنالیں توان شاءاللہ  رشتہ مل جائے گا،نیز  اچھے رشتے کے لیے نمازِعشاء کے بعد اول وآخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف اور درمیان میں گیارہ سو مرتبہ  ”یاَلَطِیْفُ“پڑھ کراللہ تعالیٰ کے حضور  دعا کریں، اچھا رشتہ نصیب ہو گا ،ان شاء اللہ۔

باقی رشتہ نہ ملنے کی وجہ سے لوگوں کا طعنہ دینا جائز نہیں ہے ،مسلمان کو طعنہ دینا سخت گناہ ہے، حدیث شریف میں ہے کہ ایسا شخص مومن نہیں ہوسکتا جو لوگوں کو طعنے دیتا ہو؛ لہذا ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس فعل سے باز آجائیں اور سچے دل سے توبہ کرکے جس کو طعنے دیے ہیں اس سے معافی مانگیں، ورنہ آخرت میں سخت عذاب کا خطرہ ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

"﴿وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ ﴾[الهمزة: 1]."

ترجمہ:”بڑی خرابی ہے ایسے شخص کے لیے جو پس پشت عیب نکالتا ہو، اور روبرو طعنہ دیتا ہو۔(بیان القرآن)

مشکوۃ المصابیح میں ہے:

"وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس ‌المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا الفاحش ولا البذيء."

(کتاب الآداب، باب حفظ اللسان، الفصل الثاني، ج: 3، ص: 1362، ط: المكتب الإسلامي بيروت)

ترجمہ :"حضرت عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن طعنہ مارنے والا، لعنت کرنے والا، بےحیا اور فحش گو نہیں ہوتا ہے۔“

آپ کے مسائل اور اُن کا حل میں ہے:

سوال: میں ایک بیوہ عورت ہوں، میری ایک بیٹی ہے، جس کا رشتہ کافی سالوں کی کوشش کے باوجود نہیں ہورہا ہے، میری خواہش ہے کہ اس کا رشتہ کسی صالح اور دین دار گھرانے میں ہوجائے، اُس کے لیے کوئی وظیفہ ارشاد فرمائیں۔

جواب: دل سے دعا کرتا ہوں، نماز عشاء کے بعد اول وآخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف اور درمیان میں گیارہ سو مرتبہ "یاَلَطِیْفُ" پڑھ کر اللہ تعالٰی سے دعا کریں، اللہ رب العزت آپ کی مشکل کو آسان فرمائے۔

(اوراد و وظائف، عنوان: رشتہ کے لیے وظیفہ، ج: 4، ص :251، ط:  مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100916

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں