
لڑکی کا نام انشاء رکھنا کیسا ہے؟ اور اس نام کے صحیح معنی بھی بتا دیں۔
اِنشاء، ہمزہ کے زیر کے ساتھ، عربی میں اس کا معنی ہے شروع کرنا، پیدا کرنا۔ اردو اور فارسی میں عبارت، تحریر (اسم) اور عبارت لکھنے (فعل) کے معنی میں بھی آتا ہے۔
یہ لفظ با معنی تو ہے، لیکن نام رکھنے کے مناسب نہیں۔ بچوں کو اچھے نام دینے چاہئے جیسے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام اور صحابہ اور صحابیات کے نام تھے۔ یا کوئی ایسے نام جو اچھے معنی کے حامل ہوں۔
حدیث شریف میں آتاہے:
"4948-...عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة باسمائكم وأسماء آبائكم، فاحسنوا أسماءكم."
(سنن أبي داود، كتاب الأدب، 62 - باب في تغيير الأسماء، ج: 2، ص: 334، ط: مکتبہ رحمانیہ لاہور)
ترجمہ: قیات کے دن تم کو تمھارے اور تمھارے آباؤں کے نام سے پُکارا جائے گا، لہٰذا تم اچھے نام (اپنے اولاد کو) دیا کرو۔
البتہ اگر ایسا نام ہی رکھنا ہے، تو اَنشاء، ہمزہ کے زبر کے ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ اَنشاءعربی میںالنَشَااورنَشًاکی جمع ہے جس کے معنی ہیں عمدہ خوشبو۔
المعجم الوسيط میں ہے:
"أَنشَأ: يفعل كذا - شرع أو جعل...الشيء-أحدثه وأوجده."
(ص: 920، ط: مکتبۃ الشروق الدولیۃ)
وفيه أيضاً:
"النَشَا:...نسيم الريح الطيبة."
(ص: 924، ط: مکتبۃ الشروق الدولیۃ)
المنجد میں ہے:
" إنشَاءً:پیدا کرنا، وضع کرنا، ابتدا کرنا۔"
(ص: 1014، ط: دار الاشاعت کراچی)
وفيه أيضًا:
" النَشَا عمدہ خوشبو ج.اَنشَاء۔"
(ص: 1018، ط: دار الاشاعت کراچی)
حسَنُ اللغات میں ہے:
"اِنشاء: عبارت لکھنا، شروع کرنا، پیدا کرنا، کوئی بات دل سے پیدا کرنا۔۔۔"
(ص: 70-71، اورینٹل بک سوسائٹی، لاہور)
فقط واللہ أعلم۔
فتویٰ نمبر : 144701100200
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن