
میری بیٹی نے ایک آوارہ فاسق فاجرلڑکے کے ساتھ نکاح کیا ہے جو کہ گندی زندگی گزارنے والا ہے ،لوگوں کو اس کے خراب کردار، بری عادات اور بری بری باتوں کا پتہ ہے،میری بیٹی کی عمر 13 سال ہے اور لڑکے کی عمر تقریبا 22 سال ہے۔
لڑکی نے اپنے اولیاء اور والدین کے اجازت کے بغیر اس سےنکاح کیا ہے ،اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس لڑکی کے والد اور اولیاء کو شرعا فسخ نکاح کا اختیار ہے یا نہیں؟
لڑکی کے والد اور اولیاء اس نکاح کو ہرگز پسند نہیں کرتے۔
صورت مسئولہ میں سائل کی مذکورہ 13 سالہ بیٹی اگر نکاح کے وقت بالغہ نہیں تھی تو اس کا یہ نکاح اس کے والد یعنی سائل کی اجازت پر موقوف ہے،اگر سائل کو یہ نکاح قبول نہیں ہے تو وہ انکار کردے،اس طرح یہ نکاح شرعا منعقد نہیں ہوگا،ختم ہوجائے گا۔
لیکن اگر سائل کی مذکورہ بیٹی نکاح کے وقت بالغہ تھی اور گواہوں کی موجود گی میں باہمی رضامندی سے نکاح ہوا تھا تو اس کایہ نکاح تو ہوگیا ہے، البتہ اگر لڑکا سائل کی بیٹی کا کفو(ہم پلہ ) نہیں ہے تو اولاد ہونے سے پہلے پہلے سائل کو عدالت کے ذریعہ اس نکاح کے فسخ (ختم )کروانے کی اجازت ہے۔
’’کفو‘‘ کا معنی ہے: ہم سر، ہم پلہ، برابر۔ نکاح کے باب میں کفو کا مطلب یہ ہے کہ لڑکا دین، دیانت، مال ونسب، پیشہ اور تعلیم میں لڑ کی کے ہم پلہ یا اس سے بڑھ کر ہو، اس سے کم نہ ہو، نیز کفاءت میں مرد کی جانب کا اعتبار ہے یعنی لڑکے کا لڑکی کے ہم پلہ اور برابر ہونا ضروری ہے، لڑکی کا لڑکے کے برابر ہونا ضروری نہیں ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما بيان شرائط الجواز والنفاذ فأنواع منها:أن يكون العاقد بالغا فإن نكاح الصبي العاقل وإن كان منعقدا على أصل أصحابنا فهو غير نافذ، بل نفاذه يتوقف على إجازة وليه؛ لأن نفاذ التصرف لاشتماله على وجه المصلحة والصبي لقلة تأمله لاشتغاله باللهو واللعب لا يقف على ذلك فلا ينفذ تصرفه، بل يتوقف على إجازة وليه، فلا يتوقف على بلوغه حتى لو بلغ قبل أن يجيزه الولي لا ينفذ بالبلوغ؛ لأن العقد انعقد موقوفا على إجازة الولي ورضاه، لسقوط اعتبار رضا الصبي شرعا، وبالبلوغ زالت ولاية الولي فلا ينفذ ما لم يجزه بنفسه، وعند الشافعي: لا تنعقد تصرفات الصبي أصلا بل هي باطلة."
(كتاب النكاح، فصل بيان شرائط الجواز والنفاذ، ج:2، ص:233، ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(وأما شروطه) فمنها العقل والبلوغ والحرية في العاقد إلا أن الأول شرط الانعقاد فلا ينعقد نكاح المجنون والصبي الذي لا يعقل والأخيران شرطا النفاذ؛ فإن نكاح الصبي العاقل يتوقف نفاذه على إجازة وليه هكذا في البدائع."
(كتاب النكاح، الباب الأول، ج:1، ص:267، ط:دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا."
(کتاب النکاح، باب الولی، 3/ 55، 56، ط : دارالفکر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض."
(کتاب النکاح، فصل ولایة الندب و الاستحباب فی النکاح، 2/ 247، ط : دارالکتب العلمیة)
"ونظم العلامة الحموي ما تعتبر فيه الكفاءة فقال:
إن الكفاءة في النكاح تكون في ... ست لها بيت بديع قد ضبط
نسب وإسلام كذلك حرفة ... حرية وديانة مال فقط".
(کتاب النکاح، باب الکفاءۃ، ج: 3، ص: 86، ط: سعید)
فتح القدیرمیں ہے:
"لأن انتظام المصالح بين المتكافئين عادةً؛ لأن الشريفة تأبى أن تكون مستفرشةً للخسيس، فلا بد من اعتبارها، بخلاف جانبها؛ لأن الزوج مستفرش فلاتغيظه دناءة الفراش".
(کتاب النکاح، باب الاولیاء والاکفاء، فصل فی الکفاءۃ، ج: 3، ص: 293، ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100973
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن