بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کا بغیر دوپٹے کے باپ اور بھائی کے سامنے آنا کیسا ہے؟/کیا یہ حدیث میں ہے کہ جس گھر میں عورت کے سر پر دوپٹہ نہیں ہوتااس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے


سوال

لڑکی کا بغیر دوپٹے کے باپ اور بھائی کے سامنے آنا کیسا ہے؟ اور خصوصاً ایک عالمہ لڑکی کا دوپٹہ گلے میں ڈال کر باپ، بھائی، تایا اور چچا کے سامنے آنا کیسا ہے؟ نیز یہ بھی سنا گیا ہے کہ حدیث میں ہےکہ  جس گھر میں عورت کے سر پر دوپٹہ نہیں ہوتا، اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ کیا یہ بات درست ہے؟ مزید یہ کہ اگر ہم کسی کو اس بارے میں منع کریں تو کیا کہہ کر منع کریں؟ کیونکہ جب کسی کو روکا جائے تو اس کا جواب ہوتا ہے کہ اس میں نہ گناہ ہے، نہ قباحت، اور اس کی ممانعت کے بارے میں کوئی حدیث بھی نہیں ہے۔ براہِ کرم راہنمائی فرمائیں۔

جواب

 صورت مسئولہ میں  گھر میں کام کاج کے دوران ا گر دوپٹہ اوڑھنے میں تکلیف ہو اور  گھر کا ماحول مکمل پردے کا ہو کسی اجبنی، و غیر محرم کی بلا اجازت آمد و رفت نہ  ہو، تو اس صورت میں محرم مردوں کے سامنے   عورت کے لیے ننگے  سر  رہنے کی گنجائش ہے، لیکن اس کی عادت بنا لینا اور بغیر ضرورت کے ایسا کرنا درست نہیں   اور ادب کے خلاف ہے۔  باقی  یہ والی بات کہ جس گھر میں عورت کے سر پر دوپٹہ نہیں ہوتا، اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتےیہ حدیث  میں نہیں ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِھنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِھنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِھنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِھنَّ أَوْ نِسَائهنَّ)

ترجمہ: اور (مومن عورتوں سے بھی کہہ دیں کہ) نه كھولیں  اپنا سنگھار مگر اپنے خاوندکے آگے یا اپنے باپ کے، یا اپنے خاوند کے باپ (سسر) کے یا اپنے بیٹے کے، اپنے خاوند کے بیٹے  کے (سوتیلے بیٹے) یا اپنے بھائی کے،  یا اپنے بھتیجوں کے، یا اپنے  بھانجوں کے  یا اپنی عورتوں کے۔ [النور:31]

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"في غريب الرواية يرخص للمرأة كشف الرأس في منزلها وحدها فأولى أن يجوز لها لبس خمار رقيق يصف ما تحته عند محارمها كذا في القنية."

( كتاب الكراهية، الباب التاسع في اللبس ما يكره من ذلك وما لا يكره ،ج:5،ص333 ، ط: دار الفكر بيروت)

فتاوی  ہندیہ میں ہے:

"وأما نظره إلى ذوات محارمه فنقول: يباح له أن ينظر منها إلى موضع زينتها الظاهرة والباطنة وهي الرأس والشعر والعنق والصدر والأذن والعضد والساعد والكف والساق والرجل والوجه، فالرأس موضع التاج والإكليل والشعر موضع العقاص والعنق موضع القلادة والصدر كذلك، والقلادة الوشاح، وقد ينتهي إلى الصدر والأذن موضع القرط والعضد موضع الدملوج والساعد موضع السوار والكف موضع الخاتم والخضاب والساق موضع الخلخال والقدم موضع الخضاب، كذا في المبسوط. ولا بأس للرجل أن ينظر من أمه وابنته البالغة وأخته وكل ذي رحم محرم منه كالجدات والأولاد وأولاد الأولاد والعمات والخالات إلى شعرها وصدرها وذوائبها وثديها وعضدها وساقها،"

(كتاب الكراهية، الباب التاسع في اللبس ما يكره من ذلك وما لا يكره، ج: 5، ص: 328، ط: دار الفكر بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101257

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں