
ایک آدمی کو بچپن سے ایک لڑکی کے متعلق بتایا گیا تھا کہ اس کا رشتہ ہم آپ کو دیں گے، پھر جب نکاح کا وقت ہوا تو دونوں گھرانوں نے آپس میں مل کر بات کی اور لڑکے کی طرف سے چچا نے نکاح کرلیا ، اور اس وقت لڑکے سے نکاح کی اجازت نہیں لی گئی تھی، لڑکا نکاح کے بعد نکاح پر راضی تھا، لیکن وکالت کے بارے میں نہ پوچھنے پر ناراض تھا، اب سوال یہ ہے کہ یہ نکاح درست ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کے چچا نے اس کی اجازت کے بغیر اگر گواہوں کی موجودگی میں نکاح کا ایجاب وقبول کرکے اس کی طرف نکاح کرلیا تو یہ نکاح اس شخص (دُلہے) کی اجازت پر موقوف تھا، اگر نکاح کے بعد اس نے زبانی یا فعلی (مہر بھیج دیا یا تعلّق قائم کرلیا وغیرہ)اجازت دے دی تو یہ نکاح منعقد ہوگیا ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وتثبت الإجازة لنكاح الفضولي بالقول والفعل، كذا في البحر الرائق رجل زوج رجلا امرأة بغير إذنه فبلغه الخبر فقال: نعم ما صنعت، أو بارك الله لنا فيها، أو قال: أحسنت، أو أصبت؛ كان إجازة، كذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار."
(كتاب النكاح، الباب السادس في الوكالة بالنكاح وغيرها،1/ 299، ط: رشيدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"من فعل يدل على الرضا، ومقتضاه أن قبض المهر ونحوه رضا كما مر من جعله رضا دلالة في حق الولي، وبه صرح في الخانية بقوله: الولي إذا زوج الثيب فرضيت بقلبها ولم تظهر الرضا بلسانها كان لها أن ترد؛ لأن المعتبر فيها الرضا باللسان أو الفعل الذي يدل على الرضا نحو التمكين. من الوطء وطلب المهر وقبول المهر دون قبول الهدية، وكذا في حق الغلام. اهـ. (قوله: ودخوله بها إلخ) هذا مكرر، والظاهر أنه تحريف، والأصل: "وخلوته بها"، فإن الذي في البحر عن الظهيرية: ولو خلا بها برضاها، هل يكون إجازة؟ لا رواية لهذه المسألة، وعندي أن هذا إجازة. اهـ. وفي البزازية: الظاهرة أنه إجازة."
(كتاب النكاح، باب الولي، 3/ 62، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101677
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن