
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے کے بارے میں کہ بیس جون دو ہزار پچیس کو بچی کی شادی ہوئی، تین ماہ بعد ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے بعد لڑکی نے طلاق کا مطالبہ کردیا، مہر کی رقم لڑکے نے شادی پر ادا کردی، پھر وہ مہر کی رقم واپس لے کر ایک موبائل لاکر دیا اور ایک سونے کا لاکٹ بنا کر دیا، طلاق نامہ پر دستخط کے بعد موبائل اور لاکٹ واپس لے لیا اور مہر ادا کرنے سے انکار کردیا کہ طلاق کا مطالبہ لڑکی والوں کی طرف سے ہے، اس وجہ سے ہم مہر نہیں دیں گے اور آپ کو فتوی لاکر دکھا دیں گے، واضح رہے کہ طلاق سے پہلے مہر کی واپسی کی کوئی شرط نہیں تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ لڑکی مہر کی حقدار ہےیا نہیں؟ اور جو بھی لڑکی کو شادی میں کپڑے اور تحفے وغیرہ دیے تھے سب واپس لے لیے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ طلاق مہر کے بدلےمیں نہیں دی گئی تھی تو مہر معاف نہیں ہوا، لہذا لڑکے پر لازم ہے کہ وہ مہر ادا کرے، نیز شادی کے موقع پر جو کپڑے اور تحائف لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کو دیے گئے ہیں، وہ لڑکی کی ملکیت ہیں،وہ بھی اسے واپس کرنا ضروری ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع، وإن تزوجها ولم يسم لها مهرا أو تزوجها على أن لا مهر لها فلها مهر مثلها إن دخل بها أو مات عنها."
(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر و المتعة، ج: 1، ص: 334، ط: دار الكتب العلمية)
رد المحتار میں ہے:
"ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا."
(كتاب النكاح، باب المهر، ج: 1، ص: 153، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709101950
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن