
میں نے اپنے خاندان میں ایک رشتہ طے کیا ہے، مگر نہ یہ رشتہ مجھے پسند ہے اور نہ ہی لڑکی کو۔ ابھی صرف منگنی ہوئی ہے۔ یہ رشتہ میرے لیے موزوں نہیں ہے، اور میں اور میری منگیتر دونوں چاہتے ہیں کہ یہ رشتہ عزت اور احترام کے ساتھ ختم ہو جائے۔گھر والوں کو اس بارے میں بتانا اس وقت ممکن نہیں ہے۔ اس صورتِ حال کی وجہ سے میری ذہنی کیفیت بہت خراب ہو چکی ہے، یہاں تک کہ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری زندگی ختم ہو گئی ہو۔ میں شدید مایوسی کا شکار ہوں۔
براہِ کرم کوئی ایسا وظیفہ بتا دیجیے جس کے ذریعے یہ رشتہ بغیر کسی نقصان اور بے عزتی کے ختم ہو جائے، کیونکہ میں اور میری منگیتر دونوں اس کے خاتمے پر راضی ہیں۔
واضح رہے کہ منگنی شرعاً نکاح نہیں، بلکہ نکاح کا ایک وعدہ ہے، اور بلا عذرِ شرعی وعدہ توڑنا ناپسندیدہ عمل ہے۔ تاہم اگر کوئی معتبر شرعی عذر موجود ہو تو منگنی توڑنا جائز ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں، جبکہ سائل اور اس کی منگیتر دونوں بالغ ہیں، ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے، اور باہمی رضامندی سے رشتہ ختم کرنا چاہتے ہیں، نیز انہیں یقین یا غالب گمان ہے کہ نکاح کی صورت میں باہمی نباہ ممکن نہیں ہوگا، اور نکاح کا مقصود حاصل نہ ہو سکے گا، بلکہ یہ رشتہ باہمی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے الفت و سکون کے بجائے میاں بیوی دونوں کے لیے اذیت و تکلیف اور دونوں خاندانوں کے درمیان کشیدگی اور اختلافات کا سبب بنے گا، تو ایسی صورت میں منگنی ختم کرنا شرعاً جائز ہے۔
باقی سائل اور اس کی منگیتر کو وظائف تلاش کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے، اور اپنی مرضی سے والدین کو مناسب انداز میں آگاہ کرنا چاہیے، تاکہ نکاح کے بعد بڑے مسائل پیدا نہ ہوں۔ اگر براہِ راست بات کرنے کی ہمت نہ ہو تو خاندان کے کسی سمجھ دار، دیانت دار اور رازدار بڑے کے ذریعے والدین تک بات پہنچائی جائے۔
صحیح البخاری میں ہے:
"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان)."
(کتاب الایمان، باب: علامة المنافق، ج:1، ص:21، ط:دارابن کثیر-دمشق)
ترجمہ:”حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:منافق کی تین نشانیاں ہیں:جب بات کرے تو جھوٹ بولے،جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے،اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔“
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے:
"بقوله: (إذا وعد أخلف) نبه على فساد النية، لأن خلف الوعد لا يقدح إلا إذا عزم عليه مقارنا بوعده، أما إذا كان عازما ثم عرض له مانع أو بدا له رأي فهذا لم توجد فيه صفة النفاق، ويشهد لذلك ما رواه الطبراني بإسناد لا بأس به في حديث طويل من حديث سلمان، رضي ﷲ عنه: (إذا وعد وهو يحدث نفسه أنه يخلف) . وكذا قال في باقي الخصال. وقال العلماء: يستحب الوفاء بالوعد بالهبة وغيرها استحبابا مؤكدا، ويكره إخلافه كراهة تنزيه لا تحريم، ويستحب أن يعقب الوعد بالمشيئة ليخرج عن صورة الكذب، ويستحب إخلاف الوعيد إذا كان التوعد به جائزا، ولا يترتب على تركه مفسدة."
(کتاب الایمان، باب: علامة المنافق، ج:1، ص:221، ط:ودار الفكر- بيروت)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
”خطبہ اور منگنی وعدۂ نکاح ہے، اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، اگرچہ مجلس خطبہ کی رسوم پوری ہوگئی ہوں، البتہ وعدہ خلافی کرنا بدون کسی عذر کے مذموم ہے، لیکن اگر مصلحت لڑکی کی دوسری جگہ نکاح کرنے میں ہے تو دوسری جگہ نکاح لڑکی مذکورہ کا جائز ہے۔“
( کتاب النکاح، ج:7، ص:110، ط. دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706102327
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن