بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نفقہ نہ دینے والے غائب شوہر سے فسخِ نکاح کا حکم


سوال

میری بیٹی کی شادی اکتوبر 2000ء میں ہوئی۔ شادی کے بعد جب بھی ہم نے اس شخص سے نکاح نامے اور شناختی کارڈ کی کاپی مانگی، اس نے ٹال مٹول سے کام لیا اور مسلسل اصرار پر ناراضگی دکھائی۔ شادی کے چند ماہ بعد ہی اس نے میری بیٹی پر جسمانی اور ذہنی تشدد شروع کر دیا۔ وہ میری بیٹی کو انتہائی درجے کی اذیت دیتا تھا۔ اس شخص نے گھر والوں سے ملنے پر بھی پابندی عائد کر دی۔ اپنی بچی کی اس حالت کو دیکھ کر ہم نے اس شخص کو کافی سمجھایا لیکن وہ باز نہیں آیا۔ ہمارے سمجھانے پر وہ میری بیٹی کو مزید تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔ وہ ایک نفسیاتی انسان تھا۔

ہم والدین نے اپنی بچی کی شادی شدہ زندگی کو بچانے کی خاطر اپنی بیٹی سے ملنا کم کر دیا۔ معمولاتِ زندگی یونہی چلتے رہے، پھر اچانک ایک روز 13 دسمبر 2013ء کو وہ شخص خود میری بیٹی کو ایمبولینس (Ambulance) میں ڈال کر ہمارے گھر لے آیا۔ جب ہم نے اپنی بیٹی کو دیکھا تو وہ جسمانی طور پر مکمل معذور ہو چکی تھی اور اس کا پورا جسم مفلوج ہو چکا تھا۔ اس کی انتہائی تشویشناک حالت کو دیکھ کر ہم نے اسی وقت اسے ایمرجنسی میں ہسپتال میں داخل کروایا۔ وہ شخص میری بیٹی کو ICU میں زیرِ علاج چھوڑ کر چلا گیا۔ آج 22 فروری 2026ء تک وہ واپس نہیں لوٹا۔

تقریباً 13 سال کا طویل عرصہ گزر گیا، اس دوران اس شخص نے ہم سے کسی قسم کا رابطہ نہیں رکھا اور نہ ہی ملنے کی کوشش کی۔ ہم نے اسے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی، لیکن اس کا کوئی اتا پتا نہیں ملا۔ جس گھر میں اس کی رہائش تھی، اس نے اسے بھی فروخت کر دیا ہے، اور اس کے والدین کا بھی انتقال ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ اس سے رابطے کا کوئی ذریعہ موجود نہیں۔ چونکہ ہمارا اس شخص سے کوئی رابطہ ممکن نہیں، اس لیے وہ شخص مکمل طور پر لاپتہ (مفقود الخبر) ہے۔

اتنا طویل عرصہ گزر جانے اور طویل انتظار کے بعد، ہم بطورِ والدین اپنی بیٹی کا گھر دوبارہ آباد کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ ہم (والدین) بہت بیمار رہتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ ہماری زندگی میں ہی ہماری بچی اپنے گھر رخصت ہوجائے۔ چونکہ ہمارے پاس نہ تو اس شخص کا نکاح نامہ ہے اور نہ ہی شناختی کارڈ کی کاپی، کہ ہم بیٹی کے خلع کے لیے درخواست دے سکیں، اور 12 سال ایک انتہائی طویل عرصہ ہوتا ہے۔

براہِ کرم اس معاملے میں ہماری شرعی و تحریری رہنمائی فرمائیں۔

وضاحت: ہم نے خود بھی اسے کافی تلاش کیا اور اداروں کے ذریعے بھی کوشش کی، لیکن مکمل طور پر ناکام رہے۔ واضح رہے کہ دسمبر 2013ء میں اسے ہسپتال چھوڑ کر جانے کے بعد سے وہ مفقود ہے۔ تب سے لے کر اب 2026ء تک اس سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکورہ شخص نے سائل کی بیٹی پر شدید ظلم کیا اور اسے معذوری کی حالت میں ہسپتال چھوڑ کر غائب ہو گیا، اور 12 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود نہ اس نے کوئی رابطہ کیا، نہ نان و نفقہ کا بندوبست کیا، نہ طلاق دی، اور نہ ہی کسی اور طریقے سے نان و نفقہ کا بندوبست ہو رہا ہے، لہٰذا اس متعنت اور غائب شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کا شرعی اور قانونی طریقہ درج ذیل ہے:

اولاً:سائل کی بیٹی (یا اس کے والدین بطور سرپرست) کسی مسلمان جج کی عدالت میں شوہر کے خلاف 'نان و نفقہ نہ دینے' اور 'شدید ضرر (ظلم)' کی بنیاد پر تنسیخِ نکاح کا مقدمہ دائر کرے۔

ثانیاً:عدالت کے سامنے شرعی گواہوں کے ذریعے اپنا نکاح ثابت کرے (واضح رہے کہ شریعت میں نکاح ثابت کرنے کے لیے نکاح نامہ شرط نہیں، بلکہ شرعی شہادت ہی اس میں اصل ہے)، اور شرعی گواہوں ہی کے ذریعے شوہر کا ظلم، اور اس کا نان و نفقہ فراہم کیے بغیر غائب ہو جانا بھی ثابت کرے۔

ثالثاً:  چونکہ شوہر کا موجودہ پتہ نامعلوم ہے، اس لیے عدالت اپنے ذرائع سے اس کی پوری طرح تلاش و تفتیش کرے اور اسے شرعی اصولوں کے مطابق یہ پیغام یا نوٹس پہنچانے کی کوشش کرے کہ 'اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو، ورنہ عدالت تفریق کر دے گی'۔

رابعاً:اس تلاش و تفتیش اور مقررہ مدت کے باوجود اگر وہ شوہر حاضر نہ ہو، یا حقوق ادا کرنے سے قاصر رہے، تو جج اس نکاح کو فسخ (ختم) کر دے۔

خامساً:جج کے تنسیخِ نکاح کے فیصلے کے بعد، سائل کی بیٹی اپنی عدتِ شرعیہ گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے کے لیے مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ عدت گزرنے کے بعد اس ظالم شوہر کا سائل کی بیٹی پر کوئی حق یا اختیار باقی نہیں رہے گا۔

حیلہ ناجزہ میں ہے:

"اور صورتِ تفریق کی یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ قاضی اسلام یا مسلمان حاکم اور ان کے نہ ہونے کی صورت میں جماعتِ مسلمین کے سامنے پیش کرے اور جس کے پاس پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ سے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو کہ باوجود وسعت کے خرچ نہیں دیتا تو اس کے خاوند سے کہا جائے کہ اپنی عورت کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو، ورنہ ہم تفریق کر دیں گے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی یا شرعاً جو اس کے قائم مقام ہو طلاق واقع کر دے اس میں کسی مدت کے انتظار و مہلت کی بالاتفاق مالکیہ ضرورت نہیں۔"

(حکم زوجہ متعنت، ص: 73، ط: دار الاشاعت)

احسن الفتاوی میں ہے:

"اولاً اس عورت پر لازم ہے کہ شوہر کو کسی نہ کسی طریق سے خلع پر راضی کرے، اگر وہ کسی صورت میں بھی خلع پر راضی نہ ہو اور عورت کو سخت مجبوری بھی ہو یعنی کوئی شخص اس کے مصارف کا کفیل نہیں بنتا، اور نہ خود یہ اپنی عزت کو محفوظ رکھ کر کوئی صورتِ کسبِ معاش کی اختیار کر سکتی ہو تو ایسی مجبوری میں مذہبِ مالکی کے مطابق عورت حاکمِ مسلم کے پاس دعویٰ پیش کرے کہ اس کا شوہر وسعت کے باوجود خرچ نہیں دیتا۔ حاکم شرعی شہادت سے پوری تحقیق کرے گا، اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو گیا تو حاکم شوہر کو حکم دے گا کہ بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دے دو، ورنہ نکاح فسخ کر دوں گا، اگر شوہر کوئی صورت قبول نہ کرے تو بلا انتظارِ مدت فوراً ہی حاکم نکاح فسخ کر دے گا، اس بارہ میں مذہبِ مالکی میں یہ صراحت نہیں کہ یہ طلاق بائن ہے یا رجعی! فتاویٰ مالکیہ میں رجعی ہونے کو ترجیح دی گئی ہے، لہٰذا فیصلہ کے بعد عدت گزرنے سے قبل اگر شوہر نفقہ دینے پر تیار ہو گیا تو اسے رجوع کا اختیار ہے، البتہ تجدیدِ نکاح بہتر ہے، اگر عورت جدید نکاح پر راضی نہ ہو تو بلا تجدیدِ رجوع بھی اسے رکھ سکتا ہے۔"

(کتاب الطلاق، باب خیار الفسخ، ج: 5، ص: 412، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100457

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں