
شیر شاہ میں لنڈے کا مال ٹنوں کے اعتبار سے آتا ہے،اب ایک شخص نے باہر ملک سے 150 ٹن پیک مال منگوایا، اور اسی شخص ( مشتری ) نے یہ 150 ٹن مال شیر شاہ لا کر کسی اور پر بیچ دیا بغیر وزن کیے، اور بسا اوقات یہ مال پورا 150 ٹن نہیں ہوتا، بلکہ کمی بیشی ہو جاتی ہے، لیکن بائع اور مشتری اس پر راضی ہیں، تو کیا یہ عقد شرعاً جائز ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو اس بیع کی درست ہونے کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟
واضح رہے کہ وزن کے حساب سے فروخت کی جانے والی اشیاء کی خرید و فروخت جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ سودے کے وقت وزن کرکے فروخت کیا جائے، خرید و فروخت کے وقت اگر دوبارہ وزن نہ کیا گیا تو شرعا ایسی بیع فاسد ہوتی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں لنڈے کا مال جب وزن کے حساب سے فروخت كيا جائے تو فروخت کرتے وقت خریدار کے سامنے دوبارہ وزن کرنا ضروری ہوگا، پہلے سے کیا ہوا وزن بتا کر قیمت وصول کرناجائز نہ ہوگا، اگرچہ وزن معلوم ہو اور عاقدین وزن دوبارہ نہ کرنے پر رضامند ہی کیوں نہ ہوں، اور وزن کی کمی بیشی کی صورت میں خریدنےوالے کو معاملہ ختم کرنے یا قیمت کی کمی بیشی کا اختیار ہو گا۔لہذا بغیر وزن کیے لنڈے کا سامان آگے وزن کے اعتبار سے فروخت کرنا درست نہیں۔
البتہ وزن کے بجائے اگر موجودہ سامان کا لم سم معاملہ کیا جائے کہ مثلاً یہ سامان ہےاور اتنی قیمت ہےیا سامان کے پیک کے حساب سے معاملہ کیا جائے کہ مثلاً150 پیک مال ہےاور اتنی قیمت ہے، اور مشتری اگر اسے قبول کر لے تو ایسی صورت میں معاملہ درست ہو جائے گا۔
سنن ابن ماجه میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی منقول ہے:
" ٢٢٢٨ - حدثنا علي بن محمد قال: حدثنا وكيع، عن ابن أبي ليلى، عن أبي الزبير، عن جابر، قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الطعام حتى يجري فيه الصاعان، صاع البائع، وصاع المشتري."
( كتاب التجارات، باب النهي عن بيع الطعام قبل ما لم يقبض، ٢ / ٧٥٠، ط: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي)
ترجمہ: "حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اناج کو بیچنے سے منع کیا ہے یہاں تک کہ بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں ماپ نہ کرلیں"۔
(یعنی: بیچنے والے اور خریدنے والے کے ماپ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بیچنے والا خریدتے وقت اپنے صاع ( پیمانہ) سے اس کو ماپے، اور خریدنے والا جب خریدے تو اس وقت ماپ لے)
العناية شرح الهداية" میں ہے:
" قال: (ومن اشترى مكيلًا مكايلةً أو موزونًا موازنة إلخ) إذا اشترى المكيل والموزون كالحنطة والشعير والسمن والحديد وأراد التصرف فذلك على أربعة أقسام: اشترى مكايلة وباع مكايلة، أو اشترى مجازفة وباع كذلك، أو اشترى مكايلة وباع مجازفة، أو بالعكس من ذلك. ففي الأول لم يجز للمشتري من المشتري الأول أن يبيعه حتى يعيد الكيل لنفسه كما كان الحكم في حق المشتري الأول كذلك لأن النبي صلى الله عليه وسلم "نهى عن بيع الطعام حتى يجري به صاعان صاع البائع، وصاع المشتري" ولأنه يحتمل أن يزيد على المشروط وذلك للبائع. والتصرف في مال الغير حرام فيجب التحرز عنه و هو بترك التصرف، وهذه العلة موجودة في الموزون فكان مثله. وفي الثاني لا يحتاج إلى الكيل لعدم الافتقار إلى تعيين المقدار. وفي الثالث لا يحتاج المشتري الثاني إلى كيل لأنه لما اشتراه مجازفة ملك جميع ما كان مشارا إليه فكان متصرفا في ملك نفسه. "
( كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل اشترى شيئا مما ينقل ويحول، ٦ / ٥١٥ - ٥١٦، ط: دار الفکر، لبنان)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" میں ہے:
"و لو كاله البائع، أو وزنه بحضرة المشتري كان ذلك كافيا، ولا يحتاج إلى إعادة الكيل؛ لأن المقصود يحصل بكيله مرة واحدة بحضرة المشتري، وما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه "نهى عن بيع الطعام حتى يجري فيه صاعان صاع البائع، وصاع المشتري" محمول على موضع مخصوص، وهو ما إذا اشترى مكيلًا مكايلة فاكتاله ثم باعه من غيره مكايلة لم يجز لهذا المشتري التصرف فيه حتى يكيله، و إن كان هو حاضرًا عند اكتيال بائعه فلايكتفى بذلك."
( كتاب البيوع، فصل فی حکم البیع، ٥ / ٢٤٥، ط: دار الکتب العلمية)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
"(وإن باع صبرةً على أنها مائة قفيز بمائة درهم وهي أقل أو أكثر أخذ) المشتري (الأقل بحصته) إن شاء (أو فسخ)؛ لتفرق الصفقة، وكذا كل مكيل أو موزون ليس في تبعيضه ضرر. (وما زاد للبائع) لوقوع العقد على قدر معين".
(کتاب البیوع، 4 / 542 ، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101276
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن