بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لنڈا مال میں قیمتی کپڑوں کا حکم


سوال

  باہر سے جو لنڈا مال آتا ہے جس میں کبھی کبھار سونا ڈالر وغیرہ چیزیں نکلتی ہیں جو کہ شرعا لقطہ کا حکم رکھتے ہیں لیکن کبھی اس لنڈے مال میں اسی کپڑے کے جنس سے بہت قیمتی کپڑا نکلتا ہے جو کسی خاص کمپنی کا برانڈ ہوتا ہے اس کی قیمت بقیہ کپڑوں سے زیادہ ہوتی ہے تو کیا یہ بھی لقطہ کے حکم میں ہے یا مشترک ملکیت شمار ہوگی  

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر لنڈا مال میں کپڑوں ہی کی جنس سے کوئی کپڑا نکل آئے، خواہ وہ کسی مہنگے برانڈ کا ہو اور اس کی قیمت باقی کپڑوں سے کہیں زیادہ ہو، تو ایسا کپڑا لقطہ کے حکم میں نہیں ہوگا، بلکہ وہ خریدار کی ملکیت شمار ہوگا،  صرف اس وجہ سے کہ وہ کپڑا زیادہ قیمتی یا برانڈڈ ہے، اسے لقطہ قرار نہیں دیا جائے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أما تعريفه فمبادلة المال بالمال بالتراضي كذا في الكافي وأما ركنه فنوعان أحدهما الإيجاب والقبول والثاني التعاطي وهو الأخذ والإعطاء كذا في محيط السرخسي."

(کتاب البیوع ، الباب الاول فی تعریف البیع و رکنه و شرطه و حکمه و انواعه جلد، ج: 3، ص: 2 ط: دارالفکر)

فتح القدیر میں ہے:

"قال (البيع ينعقد بالإيجاب والقبول إذا كانا بلفظي الماضي) مثل أن يقول أحدهما بعت والآخر اشتريت."

(کتاب البیوع جلد: 6، ص: 248، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707102454

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں