
باہر سے جو لنڈا مال آتا ہے جس میں کبھی کبھار سونا ڈالر وغیرہ چیزیں نکلتی ہیں جو کہ شرعا لقطہ کا حکم رکھتے ہیں لیکن کبھی اس لنڈے مال میں اسی کپڑے کے جنس سے بہت قیمتی کپڑا نکلتا ہے جو کسی خاص کمپنی کا برانڈ ہوتا ہے اس کی قیمت بقیہ کپڑوں سے زیادہ ہوتی ہے تو کیا یہ بھی لقطہ کے حکم میں ہے یا مشترک ملکیت شمار ہوگی
"أما تعريفه فمبادلة المال بالمال بالتراضي كذا في الكافي وأما ركنه فنوعان أحدهما الإيجاب والقبول والثاني التعاطي وهو الأخذ والإعطاء كذا في محيط السرخسي."
(کتاب البیوع ، الباب الاول فی تعریف البیع و رکنه و شرطه و حکمه و انواعه جلد، ج: 3، ص: 2 ط: دارالفکر)
فتح القدیر میں ہے:
"قال (البيع ينعقد بالإيجاب والقبول إذا كانا بلفظي الماضي) مثل أن يقول أحدهما بعت والآخر اشتريت."
(کتاب البیوع جلد: 6، ص: 248، ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707102454
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن