بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 محرم 1448ھ 17 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

”لعن اللہ الناظر والمنظور الیہ“ روایت کی تخریج اور حکم


سوال

1۔  "لعن الله الناظر والمنظور إليه" اس حدیث کا درجہ کیا ہے ؟اس حدیث کو بیان کرسکتے ہیں ؟

2۔ ناظر اور منظور سے مراد کیا ہے ؟

3۔ کیا امرد لڑکا ٹیڑھی مانگ نکالنے کی وجہ سے یا دوسرے زیب وزینت والے افعال کی وجہ سے اس وعید میں داخل ہوگا ؟

جواب

1۔ مذکورہ  روایت امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتابوں ”السنن الکبری“ اور ”شعب الایمان“  میں امام حسن بصری رحمہ اللہ سے مرسلاً نقل کی ہے، یہ روایت مراسیلِ حسن بصری میں سے ہے،  اگرچہ حسن بصریؒ کے مراسیل کے بارے میں اہلِ علم نے کلام کیا ہے اور اکثر مراسیل  پر ضعیف ہونے کا حکم لگایا ہے،تاہم مذکورہ روایت کی سند و متن پر کوئی صریح جرح ہمیں نہیں ملی، لہٰذا یہ روایت قابلِ قبول ہے اور بیان کی جا سکتی ہے۔

2۔3۔"الناظر"وہ شخص جو ناجائز طور پر کسی عورت کو شہوت یا بدنگاہی سے دیکھتا ہے، اور"والمنظور إليه" وہ شخص (عموماً عورت) جو جان بوجھ کر اپنی زینت، حسن یا جسم اس طرح ظاہر کرے کہ دوسروں کی شہوت انگیز نظر اس پر پڑے، پس امرد لڑکا اس نیت سے  ٹیڑھی مانگ نکالنے، یا دوسرے زیب وزینت والے افعال اختیار کرنے کی وجہ سے حدیث کی مذکورہ وعید میں داخل  ہوگا۔

السنن الکبری میں ہے:

"أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق، ثنا أبو العباس الأصم، ثنا بحر بن نصر، ثنا ابن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن سلمان، عن عمرو مولى المطلب، عن الحسن قال: بلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ‌لعن ‌الله ‌الناظر ‌والمنظور ‌إليه "، هذا مرسل والله سبحانه أعلم."

(كتاب النكاح، ‌‌باب ما جاء في الرجل ينظر إلى عورة الرجل والمرأة، 7/ 159، ط: دار الكتب العلمية)

تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين للسمرقنديمیں ہے:

"لعن ‌الله ‌الناظر ‌والمنظور ‌إليه.

فالواجب على المسلم أن يتعاهد نفسه في وقت الاستنجاء لكيلا ينظر إليه من لا يحل له النظر إليه من الرجال والنساء، وقوله: وغضوا أبصاركم يعني غضوا أبصاركم عن عورات الناس، وعن النظر إلى محاسن المرأة التي لا يحل له النظر إليها، وعن النظر إلى الدنيا بعين الرغبة."

(باب الزجر عن الكذب،  ص: 157، ط: دار ابن كثير، دمشق)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے :

"(وعن الحسن) أي البصري (مرسلا قال: بلغني) أي عن الصحابة (أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لعن الله الناظر) أي بالقصد والاختيار (والمنظور إليه) أي من غير عذر واضطرار، وحذف المفعول ليعم جميع ما لا يجوز النظر إليه تفخيما لشأنه (رواه البيهقي في شعب الإيمان)."

 (كتاب النكاح، 5/ 2059، ط: دار الفكر)

السنن الکبری میں ہے:

"عن الوضين، عن بعض المشيخة قال: كان يكره أن يحد النظر إلى الغلام الأمرد الجميل الوجه."

(كتاب النكاح، ‌‌باب ما جاء فى النظر إلى الغلام الأمرد بالشهوة، 7/ 160، ط: دار الكتب العلمية)

الفردوس بمأثور الخطاب  میں ہے :

"‌ابن عمر لعن ‌الله ‌الناظر والمنظور إليه، يعني يكشف عورته."

 (باب اللام، 3/ 465، ط: دار الكتب العلمية)

الموقظہ للذہبی میں ہے:

"ومِن أوهى المراسيل عندهم: ‌مراسيلُ ‌الحَسَن."

(بحث المرسل، 40، ط: المكبتة المطبوعات الإسلامية)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101660

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں