بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لالچ کی بنیاد پر والد کا نابالغہ بیٹی کا نکاح عمر رسیدہ غریب سے کرنے کا حکم


سوال

ایک آدمی نشئی ہے، نماز روزہ وغیرہ کا بالکل پابند نہیں ہے، حتی کہ جمعہ و عیدین بھی نہیں پڑھتا، اس کی حالت یہ ہے کہ بیٹی کا ایک جگہ رشتہ طے کرلیتا ہے، پھر اگر کوئی زیادہ مالدار نظر آئے تو پہلے رشتے کو چھوڑ کر مالدار سے اس کا رشتہ طے کردیتا ہے،  اس کی بیٹی کی عمر گیارہ سال ہے، اور اس نے اب لالچ میں آکر اس کا نکاح  پینسٹھ سالہ نابینا شخص سےکردیا ہے،البتہ رخصتی نہیں ہوئی، اس نکاح  پر لڑکی اور اس کے گھر کے باقی افراد  راضی نہیں ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کا مذکورہ نابینا کے ساتھ کیا ہوا  نکاح درست ہے؟

وضاحت:

1- اس لڑکی سے پہلے بھی اس نے اپنی ایک پندرہ سالہ بیٹی کا نکاح ستر سالہ  نشئی شخص  کے ساتھ کیا تھا، جس کے باعث ان کی گھریلو زندگی متاثر ہے۔

2- مذکورہ لڑکی کی عمر گیارہ سال ہے اور وہ نابالغہ ہے۔

3- مذکورہ والد نشہ کرتا ہے اور علاقہ میں ہر ایک سے لڑائی جھگڑا کرتا رہتاہے یہاں تک کہ قتل سے بھی دریغ نہیں کرتا، اس نے نابینا سے پیسے لے کر یہ نکاح کیا ہے، اور پینسٹھ سالہ نابینا شخص کوئی کام کاج نہیں کرتا،بلکہ بھیک مانگتا ہے، اس رشتے پر عدم ناراضی کی بنیاد پر لڑکی کے بھائی نےچار سال قبل  عدالت سے خلع کی ڈگری بھی لے لی ہے، اس کے بعد  نابینا شخص نے مایوس ہوکر دوسری  جگہ نکاح بھی کرلیا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ  میں اگر واقعۃً مذکورہ لڑکی کا والد اچھی شہرت کا حامل نہیں ہے،لالچ اور پیسے کی بنیاد رشتہ کرتا ہے اور لوگوں میں اس کا یہ طرز عمل معروف ہے، اور پہلی بیٹی کا رشتہ بھی اسی طرح کرچکا ہے، اور اب اس گیارہ سالہ بیٹی کا رشتہ واقعۃً 65 سالہ نابینا فقیر آدمی سے کیا ہے تو اس صورت میں یہ نکاح شرعا لازم نہیں ہے، لہذا مذکورہ لڑکی سمجھ دار ہوجانے پر یا بالغ ہوجانے پر فورا اس نکاح پر راضی نہ ہونے کو ظاہر کردے اور اس پر گواہ بھی بنالے، اور پھر مسلمان جج کی عدالت میں یہ مقدمہ پیش کرکے گواہوں کے ذریعے اس نکاح کو فسخ کرالیا جائے۔

الفتاوی الخیریہ میں ہے:

"سئل في الاب اذا علم منه سوء الاختيار وعدم النظر في العواقب، اذا زوج ابنته القابلة للتخلق بالخير والشر بغير كفؤ هل يصح ام لا؟ اجاب: قال ابن فرشته في شرح المجمع : لو عرف من الاب سوء الاختيار لسفهه او لطمعه لا يجوز عقده اتفاقاً، ومثله في الدر و الغرر، وقال في البحر في شرح قول الكنز ولو زوج طفله غير كفؤ او بغين فاحش صح، و لم يجز ذالك لغير الاب و الجد اطلق في الاب و الجد، وقيده الشارحون وغيرهم بان لا يكون الاب معروفا بسوء الاختيار حتى لو كان معروفا بذالك مجانة او فسقا، فالعقد باطل على الصحيح. قال في فتح القدير: و من زوج ابنته الصغيرة القابلة للتخلق بالخير والشر، فمن يعلم انه شريرا و فاسق فهو ظاهر سوء اختيارة و لان ترك النظر ههنا مقطوع به، فلا يعارضه ظهور ارادة مصلحة تفوق ذالك نظرا الى شفقة الابوة اه.

ثم قال: وقد وقع في أكثر الفتاوى في هذه المسئلة ان النكاح باطل، فظاهره انه لم ينعقد، وفي الظهيرية يفرق بينهما، ولم يقل انه باطل و هو الحق، و لذا قال في الذخيرة في قولهم، فالنكاح باطل، اي يبطل انتهى كلام البحر و المسئلة شهيرة."

(كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء،ص:23، ط:المطبعة الكبري المصرية)

جواہر الفقہ میں ہے:

"صورتِ مندرجہ سوال میں باپ کے کیے ہوئے نکاح پر بھی نابالغہ کو خیار فسخ ملے گا، شرائط کے مطابق عدالت مسلمہ سے نکاح فسخ کرالے تو فسخ ہوجائے گااور نکاح ثانی کی اجازت ہوجائے گی۔"

(نابالغہ کے نکاح میں سوء اختیار، ج:2، ص:68، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101439

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں