
میرے شوہر نے مجھے آٹھ سال قبل ایک طلاق دی تھی، طلاق کے الفاظ یہ ہیں :"میں نےتمہیں طلاق دی"، اس کے بعد عدت کے اندر رجوع ہو گیا تھا ،پھر حال ہی میں کچھ دن پہلے لفظ آزاد سے طلاق دی، دو مرتبہ کہا تم میری طرف سے آزاد ہو،( تفصیل منسلکہ فتوی میں موجود ہے، فتوی شوہر نے خود لیا تھا ،)اب شوہر پہلی طلاق کا انکار کر رہا ہے، لیکن میرے پاس کال ریکارڈنگ موجود ہے، جس میں اس نے طلاق کا اقرار کیا ہے، اس کے علاوہ شوہر نے میرے دو بھائیوں اور ایک چچا زاد بھائی کے سامنے بھی پہلی طلاق کا اقرار کیا ہے، اسی طرح شوہر نے لفظ آزاد سے دی جانے والی طلاق کے بارے میں کہہ رہا ہے کہ اس سے میری طلاق کی نیت نہیں تھی، اب سوال یہ ہے کہ صورتِ مذکورہ میں کتنی طلاق ہے واقع ہو چکی ہیں؟ نیز اگر تین طلاق سے کم واقع ہوئی ہوں تو کیا شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے یا نہیں ؟
2-مذکورہ شوہر سے میری دو بیٹیاں بھی ہیں ،ایک آٹھ سال کی ،اور دوسری چار سال کی، ان کی پرورش کا حق کس کو حاصل ہے؟ بچوں کے نان نفقہ کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
3۔ عدت کے دوران میرے نان نفقہ کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ لفظِ آزاد وقوعِ طلاق کے اعتبار سے صریح ہے، یعنی لفظِ آزاد سے دی گئی طلاق نیت کے بغیر ہی واقع ہو جائے گی، البتہ چوں کہ لفظِ ’’آزاد‘‘ سے طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے، اور ایک بائن طلاق کے بعد دوسری بائن طلاق واقع نہیں ہوتی ، اس لیے سائلہ کے شوہر نے جب دو مرتبہ یہ الفاظ کہے کہ " جاؤتم میری طرف سےآزاد ہو " تو ان الفاظ سے ایک طلاقِ صریح بائن واقع ہوچکی ہے ، نکاح ٹوٹ چکاہے،طلاق کے وقت سےہی بیوی کی عدت شروع ہوچکی ہے،عدت تین ماہواریاں ہیں،اگر ماہواری آتی ہو اور اگر نہ آتی ہوتو تین مہینے اور اگر امید سے ہوتو وضع حمل ہےعدت مکمل ہونے کے بعد سائلہ آزاد ہو جائے گی، اپنی مرضی سے جہاں چاہے گی نکاح کر سکے گی،البتہ طلاق دینے والے شوہر سے عدت کے دوران یا عدت کے بعد دوبارہ نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کےساتھ نکاح کر کے ساتھ رہ سکتی ہے،اگرواقعتا پہلی طلاق واقع ہوئی ہے اور اس پر گواہ بھی موجود ہیں تو دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں سائلہ کے شوہر کو صرف ایک طلا ق کا اختیار ہوگا۔
2۔لڑکی کی پرورش کا حق نو سال تک والدہ کو حاصل ہوتا ہے،نوسال کے بعد پرورش کا حق پھر بچی کے والد کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔لہذا زوجین کی جدائی کی صورت میں نو سال تک بچی والد ہ کے پاس رہے گی،نو سال بعد پھر والد کے پاس رہے گی۔تاہم اس عرصہ میں والد جب بھی بیٹی کے ساتھ ملنا چاہیے تو والدہ کی طرف سے کوئی روکاوٹ نہیں ہونی چاہیے اسی طرح والدہ اگر بیٹی سے ملنا چاہیے تو والد کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔یعنی دونوں جب چاہیے اپنی بیٹی سے ملاقات کرسکتے ہیں ۔
اور بچی کے متوسط اخراجات (کھانا پینا، کپڑے ،رہائش، تعلیمی اخراجات اور علاج معالجہ وغیرہ) والد کے ذمہ لازم ہے، اگر وہ بچی کے اخراجات نہیں دیتا تو عدالتی کاروائی کے ذریعے اخراجات حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
3۔ طلاق یا خلع کے بعد عورت پر عدت شوہر کے گھر میں گزارنا واجب ہے، اور عدت کے لیے باپردہ ماحول کے ساتھ رہائش فراہم کرنا اور نان نفقہ ادا کرنا شوہر پر لازم ہے،لہٰذا اگر مطلقہ عدت کے ایام شوہر کے گھر میں گزارے یا شوہر کی رضامندی سےیا شوہر کے گھر میں با پردہ عدت گزارنے کا انتظام نہ کر سکنے کی وجہ سے میکے میں گزارے تو دونوں صورتوں میں عدت کا خرچہ دینا شوہر پر لازم ہے، اور اگر مطلقہ بغیر کسی شرعی وجہ کے عدت شوہر کے گھر میں نہ گزارے، بلکہ اپنے میکے میں یا کسی اور جگہ گزارے تو ایسی صورت میں شرعًا عورت عدت کے خرچے کی حق دار نہیں ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت."
(کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج: 3، ص: 252، ط:رشيدية)
وفیہ ایضا:
"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب."
(کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:3، ص:409، ط: سعید)
وفیہ ایضاً؛
"(لا) يلحق البائن (البائن) (قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح، وقيد بقوله الذي لا يلحق إشارة إلى أن البائن الموقع أولا أعم من كونه بلفظ الكناية أو بلفظ الصريح المفيد للبينونة كالطلاق على مال."
(کتاب الطلاق،باب الکنایات،ج:3، ص:308، ط:سعید)
تحفة الفقہاء میں ہے:
"وأما عدة الطلاق فثلاثة قروء في حق ذوات الأقراء إذا كانت حرة .....وأما في حق الحامل فعدتها وضع الحمل لا خلاف في المطلقة لظاهر قوله: {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن }."
(كتاب الطلاق، باب العدة ، ج: 2، ص: 244، ط: دار الكتب العلمية)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان الأصل أن الفرقة متى كانت من جهة الزوج فلها النفقة، وإن كانت من جهة المرأة إن كانت بحق لها النفقة، وإن كانت بمعصية لا نفقة لها ..... والمعتدة إذا كانت لا تلزم بيت العدة بل تسكن زمانا وتبرز زمانا لا تستحق النفقة كذا في الظهيرية. ولو طلقها، وهي ناشزة فلها أن تعود إلى بيت زوجها، وتأخذ النفقة ..... وكما تستحق المعتدة نفقة العدة تستحق الكسوة كذا في فتاوى قاضي خان ويعتبر في هذه النفقة ما يكفيها وهو الوسط من الكفاية وهي غير مقدرة؛ لأن هذه النفقة نظير نفقة النكاح فيعتبر فيها ما يعتبر في نفقة النكاح."
(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الثالث في نفقة المعتدة، ج:1، ص:558،557، ط:رشيدية )
وفیہ ایضا:
"أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاحأو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي"
"والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني، وقدر بسبع سنين، وقال القدوري: حتى يأكل وحده، ويشرب وحده، ويستنجي وحده. وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين، والفتوى على الأول. والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض. وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى -: إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق، وهذا صحيح. هكذا في التبيين."
(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:541، ط:رشيدية)
وفیه ایضا:
"الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي."
كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:543، ط:رشيدية)
"نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة."
(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الاولاد، ج:1، ص:560، ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101164
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن