
ایک شخص نے بیوی کو ان الفاظ میں طلاق دی کہ " ایک دو تین آپ مجھ پر طلاق ہو "،بیوی نے کہا صرف یہ نہیں کہ مجھ پر طلاق ہو ، ماں بہن کے الفاظ بھی استعمال کرو ،پھر شوہر نے کہا کہ" آپ میرے لئے ماں بہن ہو" ،اس صورت میں طلاق واقع ہو گئی ہے کہ نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں" ایک،دو،تین " لغو جملہ ہے،اس سے شرعا کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،البتہ " آپ مجھ پر طلاق ہو "کہنے سے شرعاً ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ہے،شوہر کو دورانِ عدت(اگر عورت حاملہ نہ ہو تو عدت مکمل تین ماہواریاں ہیں ،اور اگر حاملہ ہو تو عدت بچے کی پیدائش ہے)رجوع کرنے کا حق حاصل ہوگا،اگر شوہر نے دورانِ عدت زبانی طور پر یا عملی طو پر رجوع کرلیا تو نکاح برقرار رہے گا ،اور اگر شوہر نے دورانِ عدت رجوع نہ کیا تو نکاح ختم ہوجائےگا ،نکاح ختم ہونے کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا، البتہ اگر یہ دونوں نکاح ختم ہونے کے بعد باہمی رضامندی سےمیاں ، بیوی کے طور پر ایک ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کےروبرو باقاعدہ ایجاب و قبول کرکے دوبارہ عقدِ نکاح کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ، بہرصورت( دورانِ عدت رجوع کیا جائےیا عدت گزرنے کے بعد نکاحِ جدید کیا جائے)آئندہ کے لیے اس شوہر کوصرف دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔اگرآئندہ مزید دو طلاقیں دے دیں تو پھر رجوع کی گنجائش باقی نہیں رہے گی،اور مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور عورت حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی۔
ملحوظ رہے کہ شوہر نے اپنی بیوی کو بغیر حرفِ تشبیہ کے جو یہ جملہ کہا کہ " آپ میرے لئے ماں بہن ہو "، تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی اور نہ ہی ظہار ہواہے، بلکہ یہ جملہ شرعاً لغو شمار ہوگا ،البتہ بیوی سے ایسے الفاظ کہنا ناپسندیدہ ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عن ذكر العدد، وعند عدمه الوقوع بالصيغة.
(قوله والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) أي متى قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه لو قال لغير المدخول بها أنت طالق ثلاثا طلقت ثلاثا، ولو كان الوقوع بطالق لبانت لا إلى عدة فلغا العدد، ومن أنه لو قال أنت طالق واحدة إن شاء الله لم يقع شيء ولو كان الوقوع بطالق لكان العدد فاصلا فوقع."
(كتاب الطلاق، باب طلاق غير المدخول بها،مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به لا به،ج: 3،ص: 287، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"(وإن نوى بأنت علي مثل أمي) ، أو كأمي، وكذا لو حذف علي خانية (برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته) ووقع ما نواه لأنه كناية (وإلا) ينو شيئا، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة. ويكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه.
(قوله: أو حذف الكاف) بأن قال: أنت أمي، ومن بعض الظن جعله من باب زيد أسد در منتقى عن القهستاني.
قلت: ويدل عليه ما نذكره عن الفتح من أنه لا بد من التصريح بالأداة (قوله: لغا) لأنه مجمل في حق التشبيه فما لم يتبين مراد مخصوص لا يحكم بشيء فتح (قوله: ويكره إلخ) جزم بالكراهة تبعا للبحر والنهر والذي في الفتح: وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا، وينبغي أن يكون مكروها، فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه. وفيه حديث رواه أبو داود «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يقول لامرأته يا أخية فكره ذلك ونهى عنه» ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه، ولولا هذا الحديث لأمكن أن يقال هو ظهار لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة، ولفظ " يا أخية " استعارة بلا شك، وهي مبنية على التشبيه، لكن الحديث أفاد كونه ليس ظهارا حيث لم يبين فيه حكما سوى الكراهة والنهي، فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا، ومثله أن يقول لها يا بنتي، أو يا أختي ونحوه. اهـ."
(كتاب الطلاق، باب الظهار، ج: 3، ص: 470، ط: سعيد)
فتاوی حقانیہ میں ہے:
"اگر اس عدد کے ساتھ نسبت ہو،یعنی عورت سے یوں کہے تجھے ایک دو تین طلاق ہو،ظاہر ہے کہ اضافت کی موجودگی میں اس سے تین طلاق واقع ہوگی لیکن جب اضافت نہ ہو صرف یہ ہو کہ ایک دو تین، تم طلاق ہو یا تم طلاق ہو ایک دو تین،ایسی حالت میں تم طلاق ہو مستقل جملہ مبتدا خبر ہوکر عدد سے بظاہر اس کا کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا،اس لیے عدد لغو ہوکر طلاق واقع ہوگی،تاہم اگر یوں کہا کہ :" تم ایک دو تین طلاق"یا "تم طلاق ایک دو تین ہو"تو اس سے پھر لازمی طور پر تین طلاقیں واقع ہوں گی۔"
(طلاق الصریح والکنایۃ،ج4،ص460،ط؛دار العلوم حقانیہ)
فتاوی رشیدیہ میں ہے:
( سوال ) اگر کوئی حالت غصہ میں اپنی عورت کو ماں بہن کہہ دے اور وہ یہ جانتا ہے کہ ماں بہن کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے تو اس کہنے سے طلاق ہو جاوے گی یا نہیں۔
( جواب ) ماں بہن کہنے سے طلاق نہیں واقع ہوتی ہے خواہ کچھ سمجھ کے کہے فقط ۔
(فتاوی رشیدیہ،کتاب الطلاق،ص:476، ط: عالمی مجلس تحفظِ اسلام)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100517
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن