بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کامیرال نام رکھنا کیسا ہے؟


سوال

لڑکی کا”میرال“ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

”میرال“ نام عربی ، اردو،  اور فارسی میں مستعمل نہیں ، البتہ   ترکی زبان میں یہ لفظ مستعمل ہے جس کے معنی  ہرنی کے آتے ہیں، پس ”میرال“ نام رکھنا اگرچہ درست ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ لڑکی کے لیے  صحابیات رضون اللہ علیہن اجمعین کے ناموں میں سے یا کسی کے نام پر رکھا جائے، یا اچھے معانی والے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کر لیا جائے،   اس کےلیے    جامعہ کی ویب سائٹ پر لڑکوں / لڑکیوں کے اسلامی نام موجود ہیں، اچھے اور بامعنی ناموں کے انتخاب کے لیے اس  سے  بھی استفادہ کرسکتے  ہیں۔

لنک:  اسلامی نام

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ‌ولد ‌له ‌ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه."
ترجمہ:”حضرت ابو سعید اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: جس کے ہاں پچے کی پیدائش ہوجائے تو اسے چاہیے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو ادب سکھائے، پھر جب بالغ ہو تو اس کی شادی کرائے، اگر بالغ ہوا اور اس (باپ) نے اس کی شادی نہ کرائی اور وہ کسی گناہ میں مبتلا ہوا تو اس کا گناہ والد پر ہوگا۔“

(کتاب النکاح، باب الولي في النكاح، الفصل الثالث، 2 / 939، ط: المكتب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100257

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں