
میری سگی بہن نے میرے ماں شریک بھائی سے گھر سے بھاگ کر خفیہ طور پر 2009 میں شادی کر لی تھی،دو مہینے بعد ان کے درمیان جدائی کر لی گئی اس کے دو یا تین مہینے بعد لڑکی کی شادی کسی اور سے کرا لی گئی، اب اس دوسرے نکاح سے اولاد بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ لڑکی نے جو اپنے ماں شریک بھائی سے نکاح کر لیا تھا اس کی شریعت حیثیت کیا ہے؟ کیا دونوں کے درمیان تفریق (جدائی) کرنے کے بعد زبانی یا تحریری طلاق لینا ضروری تھا؟
اور لڑکی کا جو دوسری جگہ نکاح ہوا ہے تفریق کے دو یا تین مہینے بعد اس کا کیا حکم ہے؟
تنقیح:ان کے ذہن میں تھا کہ نکاح ہوسکتا ہے،نکاح کے حرام ہونے کا علم نہیں تھا،بعد میں جب پتہ چلا تو فوراً الگ ہوگئے اور توبہ تائب ہوئے،کلمہ پڑھا۔
صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃ ً مذکورہ مرد اورعورت کا لاعلمی میں آپس میں نکاح ہوا،اور ان کو نکاح کے حرام ہونے کا علم نہیں تھاتو شرعاً یہ نکاح فاسد ہوا،جدائیگی کے بعد عورت پر عدت لازم تھی ،عدت ختم ہونے سے پہلے کہیں اور نکاح جائز نہیں تھا،جب عدت پورا کیے بغیر لاعلمی میں دوبارہ نکاح کرلیا تو یہ نکاح بھی فاسد ہوگیا،بغیر نکاح صحیح کے اب تک ساتھ رہنے پردونوں توبہ واستغفاربھی کریں اور از سر نو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرلیں، اور بچوں کا نسب اپنے حقیقی والد سے ثابت ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے :
"(وعدة المنكوحة نكاحا فاسدا) فلا عدة في باطل وكذا موقوف قبل الإجازة اختيار، لكن الصواب ثبوت العدة والنسب بحر
(قوله: وعدة المنكوحة إلخ) مبتدأ خبره قوله: الآتي الحيض، وهذه الجملة بتمامها مستغنى عنها بقوله سابقا كذا أم ولد مات عنها مولاها، أو أعتقها وموطوءة بشبهة أو نكاح فاسد في الموت والفرقة ط. على أن كلامه هنا يوهم وجوب العدة في النكاح الفاسد ولو قبل الوطء وليس كذلك، فإنها لا تجب فيه بالخلوة بل بالوطء في القبل كما مر في باب المهر (قوله: نكاحا فاسدا) هي المنكوحة بغير شهود، ونكاح امرأة الغير بلا علم بأنها متزوجة، ونكاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد عنده خلافا لهما فتح. مطلب في النكاح الفاسد والباطل.
(قوله: فلا عدة في باطل) فيه أنه لا فرق بين الفاسد والباطل في النكاح، بخلاف البيع كما في نكاح الفتح والمنظومة المحبية، لكن في البحر عن المجتبى: كل نكاح اختلف العلماء في جوازه كالنكاح بلا شهود فالدخول فيه موجب للعدة، أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا، فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لكونها زنا كما في القنية وغيرها. اهـ.
قلت: ويشكل عليه أن نكاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد كما علمت مع أنه لم يقل أحد من المسلمين بجوازه وتقدم في باب المهر أن الدخول في النكاح الفاسد موجب للعدة وثبوت النسب، ومثل له في البحر هناك بالتزوج بلا شهود وتزوج الأختين معا، أو الأخت في عدة الأخت، ونكاح المعتدة والخامسة في عدة الرابعة والأمة على الحرة. اهـ".
(کتاب الطلاق،باب العدۃ،ج:3،ص:516،سعید)
وفیه ایضا:
"وبحرمة المصاهرة لایرتفع النکاح حتی لایحل له التزوج بآخر إلا بعد المتارکة وانقضاء العدة.
وفی الرد: النکاح لایرتفع بحرمة المصاهرة والرضاع؛ بل یفسده، (قوله) إلا بعد المتارکة أي وإن بقی علیها سنون کما في البزازیة، وعبارة الحاوي إلا بعد تفریق القاضي أو بعد المتارکة، وقد علمت أن النکاح لایرتفع؛ بل یفسد، وقد صرّحوا في النکاح الفاسد بأن المتارکة لاتتحقق إلا بالقول: إن کانت مدخولًا بها كتركتك، أو خلیت سبیلك."
(رد المحتار علی الدر المختار ، کتاب النکاح ، فصل فی المحرمات 3/ 37سعید )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100250
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن