
استقبال حجرِ اسود کا شرعی حکم بتلادیجئے !نیز یہ بھی پوچھنا تھا کہ میں نے کئی طواف کئے ہیں کچھ عمرے کی صورت میں اور کچھ نفلی اور ان سب طواف میں لاعلمی کی بنیاد پر میں نے استقبالِ حجرِ اسود نہیں کیا تو اب میرے ذمہ ان سب کا کیا کفارہ ہے؟
حجر اسود کے استقبال کا مطلب ہے کہ طواف شروع کرنے سے پہلے طواف کرنے والا شخص حجرِ اسود کے سامنے اس انداز سے کھڑا ہو کہ پورا حجرِ اسود اس کے دائیں جانب رہے، پھر کعبۃ اللہ کی طرف متوجہ ہو کر طواف کی نیت کرے، نماز کی طرح کانوں تک ہاتھ اٹھا کر"اللہ اکبر، لا اله الا الله" کہے۔طواف سے پہلے حجرِ اسود کااستقبال کرنا مستحب ہے۔
اور طواف کے دوران ہر چکر میں حجر اسود کو پہنچ کر حجر اسود کی جانب رخ کرکے اپنے ہاتھوں کو چہرے کے آگے بڑھا کر اس طرح اشارہ کرنا کہ ہتھیلی کی پشت چہرے کی طرف ہو اور ہتھیلی کا اندرونی حصہ حجر اسود کی طرف ہو اور"اللہ اکبر، لا اله الا الله"پڑھ کر، اللہ تعالی کی حمد کر اور نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا، پھر اپنی ہتھیلیوں کوبغیر آواز کے بوسہ دینے(یعنی چومے) کو استلام حجر اسود کہتے ہیں، اور یہ سنت ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ نے اگر طواف شروع کرنے سے پہلے استقبا ل ترک کرلیا ہو،یا طواف کے دوران استلام؛ تو آپ پر کسی قسم کا کفارہ یا دم لازم نہیں ہے، آئندہ اس کا خیال رکھیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ثم) ابتدأ بالطواف لأنه تحية البيت ما لم يخف فوت المكتوبة أو جماعتها أو الوتر أو سنة راتبة فاستقبل (الحجر مكبرا مهللا رافعا يديه) كالصلاة(واستلمه) بكفيه وقبله بلا صوت، وهل يسجد عليه؟ قيل نعم (بلا إيذاء) لأنه سنة ۔۔۔۔قوله فاستقبل الحجر إلخ) أشار بالفاء إلى أنه ينوي الطواف قبل الاستقبال لما سيذكره من أنه يمر بجميع بدنه على جميع الحجر، ولهذا قال في اللباب: ثم يقف مستقبل البيت بجانب الحجر الأسود مما يلي الركن اليماني، بحيث يصير جميع الحجر عن يمينه، ويكون منكبه الأيمن عند طرف الحجر فينوي الطواف،وهذه الكيفية مستحبة والنية فرض."
(کتاب الحج، ج:2، ص:493، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"ثم يبدأ بالحجر ولا يبدأ بغيره إلا أن يكون القوم في الصلاة فيدخل في الصلاة كذا في الظهيرية ويستقبله ويكبر رافعا يديه كما يكبر للصلاة ثم يرسلهما، كذا في فتاوى قاضي خان وفي البدائع وغيره والصحيح أنه يرفع حذاء منكبيه كذا في النهر الفائق. ويستلمه، وصفة الاستلام أن يضع كفيه على الحجر ويقبله يفعل ذلك إن أمكنه من غير أن يؤذي أحدا ويقول عند الاستلام بسم الله الرحمن الرحيم اللهم اغفر لي ذنوبي وطهر لي قلبي واشرح لي صدري ويسر لي أمري وعافني فيمن عافيت كذا في المحيط، وإلا مس الحجر بيده وقبل يده، وإن لم يستطع ذلك أمس الحجر شيئا في يده من عرجون وغيره ثم قبل ذلك الشيء كذا في الكافي فإن لم يستطع شيئا من ذلك يستقبله ويرفع يديه مستقبلا بباطنهما إياه ويكبر ويهلل ويحمد ويصلي على النبي صلى الله عليه وسلم كذا في فتح القدير وهذا الاستقبال مستحب وليس بواجب كذا في السراج الوهاج."
(کتاب المناسک،الباب الخامس، ج : 1، ص : 225 ،ط : دار الفکر)
وفیہ ایضاً:
"وإن افتتح الطواف باستلام الحجر وختم به وترك الاستلام فيما بين ذلك أجزأه، وإذا ترك رأسا فقد أساء كذا في شرح الطحاوي ويستلم الركن اليماني وهو حسن في ظاهر الرواية كذا في الكافي، وإن تركه لا يضره، ولا يستلم الركن العراقي ولا الشامي كذا في محيط السرخسي."
(کتاب المناسک،الباب الخامس، ج : 1، ص : 226 ،ط : دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101481
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن