بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

لا علمی میں ٹیٹو بنوا کر اس کے بعد نماز کا حکم


سوال

ٹیٹو لگانا حرام ہے اگر کسی انسان کو بالکل پتہ ہی نہ ہو لگانے کے بعد پتہ چل جائے اور وہ توبہ کر لے پھر کیا اس کے بعد اس کی نماز ہوجاتی ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جسم کے کسی حصہ پر ٹیٹو بنوانا شرعاً حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، اور ٹیٹو بنانے اور بنوانے والوں پر اللہ رب العزت کی جانب سے لعنت کی گئی ہے، جیساکہ صحیح البخاری میں ہے:

"عن ابن عمر -رضي الله عنه- عن النبي صلّى الله عليه وسلّم، حيث قال: لعَنَ اللَّهُ الواصلةَ والمُستوصِلةَ، والواشمةَ والمُستوشِمة".

( رواه البخاري، عن عبد الله بن عمر، الرقم: 5937)

ترجمہ:" حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے بالوں کے ساتھ دوسرے بال لگانے والی اور لگوانے والی اور گودنے یا گدوانے والی سب پر لعنت بھیجی ہے ۔ "

"المنهاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج"میں ہے:

" الوشم وهي أن تغرز إبرة أو مسلة أو نحوهما في ظهر الکف أو المعصم أو الشفة أو غیر ذلک من بدن المرأة حتی یسیل الدم، ثم تحشو ذلک الموضع بالکحل أو النورة فیخضر ... فإن طلبت فعل ذلک بها فهي مستوشمة، وهو حرام علی الفاعلة والمفعول بها باختیارها والطالبة له ... وسواء في هذا کله الرجل والمرأة . والله أعلم".

(۷/۲۳۱ ، کتاب اللباس والزینة ، باب تحریم فعل الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة ، تحت الرقم :۲۱۲۵)

لہذا صورتِ مسئولہ میں جسم پر ٹیٹو بنانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے، اور اگر کسی نے جسم پر ٹیٹو بنوا رکھے ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ کے حضور سچے دل سے توبہ کرے، اور اگر اسے زائل کرنا ممکن ہو تو بذریعہ علاج جسم سے اسے ختم کروائے، موجودہ دور میں اسے جدید طریقہ علاج سے مشقت کے بغیر زائل کرنا بھی ممکن ہوگیا ہے اور اگر ممکن نہ ہو تو اسے یوں ہی چھوڑ دے۔

"فتح الباری شرح صحیح البخاری"میں ہے:

"إلا بالجرح فإن خاف منه التلف، أو فوات عضو، أو منفعة عضو، أو حدوث شين فاحش في عضو ظاهر، لم تجب إزالته وتكفي التوبة في هذه الحالة، وإن لم يخف شيئاً من ذلك ونحوه لزمه إزالته ويعصي بتأخيره، وسواء في ذلك كله الرجل والمرأة". ( ١٠/ ٣٧٢)

فتاوی شامی میں ہے:

"يستفاد مما مرّ حكم الوشم في نحو اليد، وهو أنه كالاختضاب أو الصبغ المتنجس؛ لأنه إذا غرزت اليد أو الشفة مثلاً بإبرة، ثمّ حشي محلها بكحل أو نيلة ليخضر، تنجس الكحل بالدم، فإذا جمد الدم، والتأم الجرح بقي محله أخضر، فإذا غسل طهر؛ لأنه أثر يشق زواله؛ لأنه لايزول إلا بسلخ الجلد أو جرحه، فإذا كان لايكلف بإزالة الأثر الذي يزول بماء حار أو صابون فعدم التكليف هنا أولى. وقد صرح به في القنية فقال: ولو اتخذ في يده وشماً لايلزمه السلخ ..." الخ

( كتاب الطهارة، باب الأنجاس، مطلب في حكم الوشم، (1/330) ط: سعيد)

رہی بات وضو و غسل کی تو دونوں ہوجاتے ہیں اور ٹیٹو کے ساتھ نماز بھی ہوجاتی ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100950

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں