
ایک عورت کا انتقال ہوا ہے۔ ان کی عمر تقریباً 76 برس تھی۔ وہ کم ذہن تھیں۔ گھر کے افراد کو پہچانتی تھیں، لیکن پاکی اور ناپاکی کا فرق نہیں سمجھتی تھیں۔ گھر سے باہر گئیں تو کھو جاتی تھیں۔ سودا سلف نہیں خرید سکتی تھیں۔ نماز پڑھتی تھیں، مگر پتہ نہیں ہوتاتھا؛ کبھی ایک رکعت، کبھی دو رکعت اور کبھی تین رکعت پڑھتی تھیں۔
ایسی حالت میں کیا ان پر زندگی میں زکوٰۃ واجب تھی؟
صورت مسئولہ میں اگر واقعتاً مذکورہ خاتون ذہنی معذور تھیں ،بجزگھر کے افراد کوپہچاننےکے دین ودنیا کے دیگر امور سمجھنےسے نابلد تھیں، تو اس صورت میں مذکورہ خاتون شرعی احکام کی مکلف نہیں تھیں جس کے سبب ان کے مال پر زکات واجب نہیں تھی،اور ان کی وفات کے بعد ورثاء پر گزشتہ سالوں کی زکات ادا کرنا لازم نہیں ہوگا۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"(ومنها) العقل عندنا فلا تجب الزكاة في مال المجنون جنونا أصليا."
(کتاب الزکوۃ، فصل: شرائط فرضیة الزکوۃ، ج:2، ص:05، ط:دارالکتب العلمیة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(ومنها العقل والبلوغ) فليس الزكاة على صبي ومجنون إذا وجد منه الجنون في السنة كلها هكذا في الجوهرة النيرة فلو أفاق في جزء من السنة بعد ملك النصاب في أولها وآخرها قل ذلك أو كثر يلزمه الزكاة كذا في العيني شرح الهداية وهو ظاهر الرواية هكذا في الكافي.قال صدر الإسلام أبو اليسر: وهو الأصح كذا في شرح النقاية للشيخ أبي المكارم هذا في الجنون العارضي بأن جن بعد البلوغ أما في الأصلي بأن بلغ مجنونا فعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - يعتبر ابتداء الحول من وقت الإفاقة كذا في الكافي."
(کتاب الزکاۃ،الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج:1،ص:172،ط:دارالفکربیروت)
الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:
"وذهب الحنفية إلى أنه لا زكاة في مال. المجنون؛ لأنه غير مخاطب بالعبادة، والزكاة من أعظم العبادات، فلا تجب عليه كالصلاة والحج ولقوله صلى الله عليه وسلم: رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يحتلم، وعن المجنون حتى يعقل."
(أثر الجنون في الزكاة:ج:16،ص:105،ط:دارالسلاسل الكويت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100936
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن