بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ذہنی مریض اور معتوہ کی طلاق ہوش و حواس کی حالت میں واقع ہو جاتی ہے؟


سوال

میرے بیٹے کا ذہنی توازن پندرہ سولہ سال سے درست نہیں ہے، درمیان میں کبھی صحیح بھی ہوجاتا ہے، اس نے تقریباً چھ سات مہینے کام بھی کیا ہے، لیکن ایک ہفتہ سے اس کی طبیعت مزید بگڑ گئی ہے، کھانے پینے کی چیزوں کا اس کو پتہ چلتا ہے، ہم پیسے دیتے ہیں تو اس کا بھی علم ہوتا ہے کہ یہ سو روپے ہیں یا پچاس روپے، وغیرہ، اب اپنی بیوی سے کسی بات پر لڑائی ہوئی، تو بیوی سے کہا کہ "تو اپنی ماں کے گھر چلی جا"، بیوی نے جواب دیا"مجھے طلاق دے تو میں چلی جاؤں گی"، جس پر میرے بیٹے نے تین طلاقیں دیں، جس وقت لڑائی ہوئی اس وقت یہ کام پر جا رہا تھا، اور کہہ رہا تھا کہ کام پہ جارہا ہوں، واپسی میں اسکول سے بچوں کو لے کر آؤں گا ۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں چونکہ طلاق دینے کے وقت سائل کا بیٹا مکمل ہوش و حواس میں تھا، لہذا بیٹے کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں،  اور بیٹے کی بیوی اس  پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، نکاح ختم ہوگیا ہے، بیٹے کے لیے مطلقہ بیوی سے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا حرام ہے، پس مطلقہ بیوی عدتِ طلاق (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور ماہواری آتی ہو، حمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک کا عرصہ) گزار کر کسی اور سے نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

قرآن کریم میں ہے:

﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾

ترجمہ:"پھر اگر کوئی (تیسری)طلاق دے دے عورت کو پھر وہ اس کے لیے حلال نہ رہے گی اس کے بعد، یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح کر لے"۔

(بیان القرآن از حکیم الامت اشرف علی تھانوی، سورت:البقرۃ، آیت:230، ج:1، ص:162، ط:مکتبہ رحمانیہ)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"قال أبو بكر قوله تعالى {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} الآية يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها وذلك لأن قوله الطلاق {مرتان} قد أبان عن حكمه إذا أوقع اثنين بأن يقول أنت طالق أنت طالق في طهر واحد ... وفيها الدلالة عليه من وجه آخر وهو قوله تعالى {فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور... وقد تقدم ذكر أقاويل السلف فيه وأنه يقع وهو معصية فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا وإن كانت معصية".

(سورة البقرة، الآية:230، ج:2، ص: 83، ط: دار إحياء التراث العربي)

   مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

"قال النووي: اختلفوا فيمن ‌قال ‌لامرأته: ‌أنت ‌طالق ‌ثلاثا، فقال مالك والشافعي وأبو حنيفة وأحمد والجمهور من السلف والخلف: يقع ثلاثا".

(كتاب النكاح، باب الخلع، ج:5، ص:2145، الرقم:3292، ط:دار الفكر)

النتف فی الفتاوی میں ہے:

"و أما اللفظ المقرون بالتكرار فهو على أربعة أوجه: أحدهما: أن يقول أنت طالق طالق طالق، والثاني: أن يقول أنت طالق وطالق وطالق، والثالث: أن يقول أنت طالق أنت طالق أنت طالق، والرابع: أن يقول أنت طالق ثم طالق ثم طالق فإن كانت المرأة مدخولا بها في هذه الوجوه طلقت ثلاثا".

(كتاب العدة، المقرون بالتكرار، ج:1، ص:339، ط:مؤسسة الرسالة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين، لا رجعة فيه) وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث... وأما إمضاء عمر الثلاث عليهم مع عدم مخالفة الصحابة له وعلمه بأنها كانت واحدة فلا يمكن إلا وقد اطلعوا في الزمان المتأخر على وجود ناسخ أو لعلمهم بانتهاء الحكم لذلك لعلمهم بإناطته بمعان علموا انتفاءها في الزمن المتأخر".

(كتاب الطلاق، ج:3، ص:233-234، ط:دار الفكر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وكذلك المعتوه لا يقع طلاقه أيضا وهذا إذا كان في حالة العته أما في حالة الإفاقة فالصحيح أنه واقع هكذا في الجوهرة النيرة".

(كتاب الطلاق، الباب الاول، ج:1، ص:353، ط:دار الفكر)

و فيه أيضا:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية".

(كتاب الطلاق، الباب السادس، فصل في ماتحل به المطلقة، ج:1، ص:473، ط: دار الفكر)

فقط و الله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100283

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں