
ہم دو بھائی اور والد صاحب نے ایمبرائیڈی کا کام شروع کیا تھا، اور اس کی مشینیں والد صاحب نے لگوائیں، مشینوں میں ہمارا ذاتی کوئی پیسہ نہیں تھا، بلکہ صرف والد صاحب کا تھا، اس دوران نفع نقصان سب ہمارے والد صاحب کا تھااور والد صاحب ہم دو بھائیوں کو خرچہ دیتے تھے، ہمارا معاملہ اسی طرح چلتا رہا، پھر والد صاحب نے 2019میں سالانہ نفع نکالا، اس نفع کے پانچ حصے کیے، ایک حصہ والد صاحب کو مشین کی مد میں ادا کیا گیا، ایک حصہ کاروبار میں ہی لگایا، باقی تین حصے ہم تینوں یعنی والد صاحب اور ہم دو بھائیوں نے برابر تقسیم کیے، یہ تمام معاملات باہمی رضامندی سے ہوئے، والد صاحب نے اس کام سے اپنی مشینوں کا 70فیصد وصول کرلیا ہے، مارچ 2025کے بعد ایک بیٹا کام سے الگ ہوگیا اور اس نے اپنا کام شروع کردیااور والد صاحب اور ایک بیٹا ساتھ کام کرتے رہے۔اس صورت کو سامنے رکھتے ہوئے چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1۔جس وقت ہم ساتھ کام کرتے تھے، اس وقت جتنی مشینیں تھیں ان کی ملکیت کس کی ہے،والد صاحب کی یا بیٹوں کی یا مشترک؟
2۔والد صاحب نے جو 70فیصد رقم وصول کی ہے، اس میں بیٹوں کا حصہ ہوگا یا نہیں؟
3۔جس جگہ مشینیں لگیں تھیں، وہ جگہ والد صاحب کی تھی اور انہوں نے کوئی کرایہ ہم سے وصول نہیں کیا، ان کو ہم سے کرایہ کے مطالبہ کا حق ہے؟اس وقت ہم نے کوئی کرایہ طے نہیں کیا تھا۔
1۔صورت مسئولہ میں جب بیٹے اپنے والد کے پاس کام کرتے تھے اور نفع نقصان سب والد کا تھا تو ان بیٹوں کی حیثیت معاون کی تھی اور اصل کاروبار کے مالک والد صاحب تھے، انہوں نے جو مشینیں خریدیں تھیں، وہ مشینیں ان ہی کی ملکیت ہیں، کسی اور کا ان میں کوئی حق نہیں۔
2۔ ان مشینوں کی جس قدر رقم والد صاحب اپنے کاروبار سےوصول کرچکے ہیں، وہ بھی ان کی ہی ملکیت ہے، کسی بیٹے کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔
3۔والد صاحب کی جگہ پر جب والد صاحب کا کاروبار چل رہا تھا اور انہوں نے اپنے بیٹوں سے اس جگہ کے کرایہ کی کوئی بات نہیں کی تھی تو بیٹوں پر اس جگہ کا کوئی کرایہ لازم نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"اعلم أن أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد لا لجفاف على المباح الخالي عن مالك، فلو استولى في مفازة على حطب غيره لم يملكه ولم يحل للمقلش ما يجده بلا تعريف، وتمام التفريع في المطولات."
(کتاب الصید، ج: 6، ص: 463، ط: سعید)
وفیه أیضاً:
"الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له."
(كتاب الشركة، فصل في الشركة الفاسدة، ج: 4، ص: 325، ط: دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706101460
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن