
ہمارے گاؤں میں ایک عالم دین اور پیر طریقت مقیم ہیں۔ وہ خانقاہی نظام سے وابستہ ہیں، جہاں سالکین کی روحانی تربیت ہوتی ہے۔ دینی موضوعات پر مختلف رسائل میں علمی و اصلاحی مضامین بھی تحریر کرتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ اپنا کاروبار بھی چلاتے ہیں۔
چونکہ گاؤں میں اگر کوئی فوت ہو جائے تو جنازے کے لیے تین چار کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے،اس لیے حضرت عموماً جنازوں میں شرکت کم کر پاتے ہیں۔ میں چونکہ ان کا مرید ہوں؛ اس لیے مجھے ان کی دینی مصروفیات اور ذمہ داریوں کا علم ہے۔
تاہم، بعض دیہاتی لوگ اس بات پر تنقید کرتے ہیں کہ حضرت جنازوں میں شریک نہیں ہوتے، حالانکہ وہ اپنی علمی، روحانی، اور دینی خدمات میں مصروف ہوتے ہیں ۔لہذا از روئے شریعت حکم واضح فرمائیں ۔
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ بنیادی حقوق مقرر کیے گئے ہیں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:"مسلمان پر دوسرے مسلمان کے پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا، اور چھینک آنے پر 'یرحمک اللہ' کہنا۔" (صحیح بخاری و مسلم)
ان میں سے ایک اہم حق اتباعِ جنازہ ہے، یعنی مسلمان کے انتقال کے بعد اس کے جنازے میں شرکت کرنا، اس کے ساتھ قبر تک جانا، اور دعا کرنا۔ یہ عمل نہ صرف مرحوم کے لیے باعثِ رحمت ہے، بلکہ جنازے کے ہر مرحلے میں شریک ہونے والے کے لیے بھی عظیم اجر کا ذریعہ ہے۔نبی کریم ﷺ نے اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:"جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نمازِ جنازہ پڑھے، اسے ایک قیراط اجر ملتا ہے، اور جو دفن تک ساتھ رہے، اسے دو قیراط اجر ملتا ہے۔" (صحیح بخاری و مسلم)صحابہؓ نے عرض کیا: "دو قیراط کیا ہیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔"
یہ فضیلت اس بات کی دلیل ہے کہ جنازے میں شرکت کرنا محض ایک سماجی رسم نہیں، بلکہ ایک عظیم عبادت ہے، جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بلند ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس اجرِ عظیم سے محروم نہ رہے، اور بلاوجہ یا غیر ضروری امور کی بنیاد پر اس عبادت کو نظر انداز نہ کرے۔ بعض اوقات اگر جنازے میں شرکت کرنے والا کوئی نہ ہو، تو پورے محلے یا بستی کے افراد گناہ گار ہو سکتے ہیں، کیونکہ فرضِ کفایہ ادا نہ ہونے کی صورت میں سب پر گناہ آتا ہے۔
تاہم اگر کوئی عالمِ دین یا دینی خدمت گزار اپنی علمی مصروفیات، دینی ذمہ داریوں، یا طویل مسافت کی وجہ سے کبھی کبھار جنازے میں شرکت نہ کر سکے، تو اس پر شرعی طور پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ شریعت نے نمازِ جنازہ کو فرضِ کفایہ قرار دیا ہے، یعنی جب کچھ افراد جنازہ ادا کر لیں، تو باقی افراد بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔
ایسے میں عوام کو چاہیے کہ وہ علماء و مشائخ کی قدر کریں، ان کے حالات اور مصروفیات کو سمجھیں، اور ان پر بے جا تنقید سے پرہیز کریں،تاکہ دنیا وآخرت میں خسارے سے بچ سکیں۔
مرقات المفاتیح میں ہے:
"وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «حق المسلم على المسلم خمس: " رد السلام، وعيادة المريض، واتباع الجنائز، وإجابة الدعوة، وتشميت العاطس» ". متفق عليه."
(کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض وثواب المریض، ج:3، ص:1120، ط:دار الفکر،بیروت-لبنان)
فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ہے:
"والإشارة بهذا المقدار إلى الأجر المتعلق بالميت في تجهيزه وغسله وجميع ما يتعلق به، فللمصلي عليه قيراط من ذلك، ولمن شهد الدفن قيراط. وذكر القيراط تقريبا للفهم لما كان الإنسان يعرف القيراط ويعمل العمل في مقابلته، وعد من جنس ما يعرف، وضرب له المثل بما يعلم. انتهى. وليس الذي قال ببعيد، وقد روى البزار من طريق عجلان، عن أبي هريرة مرفوعا: من أتى جنازة في أهلها فله قيراط، فإن تبعها فله قيراط، فإن صلى عليها فله قيراط، فإن انتظرها حتى تدفن فله قيراط.
فهذا يدل على أن لكل عمل من أعمال الجنازة قيراطا، وإن اختلفت مقادير القراريط، ولا سيما بالنسبة إلى مشقة ذلك العمل وسهولته، وعلى هذا فيقال: إنما خص قيراطي الصلاة والدفن بالذكر لكونهما المقصودين، بخلاف باقي أحوال الميت، فإنها وسائل، ولكن هذا يخالف ظاهر سياق الحديث الذي في الصحيح المتقدم في كتاب الإيمان، فإن فيه: إن لمن تبعها حتى يصلى عليها، ويفرغ من دفنها قيراطين. فقط، ويجاب عن هذا بأن القيراطين المذكورين لمن شهد، والذي ذكره ابن عقيل لمن باشر الأعمال التي يحتاج إليها الميت فافترقا، وقد ورد لفظ القيراط في عدة أحاديث: فمنها ما يحمل على القيراط المتعارف، ومنها ما يحمل على الجزء في الجملة، وإن لم تعرف النسبة. فمن الأول حديث كعب بن مالك مرفوعا: إنكم ستفتحون بلدا يذكر فيها القيراط. وحديث أبي هريرة مرفوعا: كنت أرعى غنما لأهل مكة بالقراريط. قال ابن ماجه عن بعض شيوخه: يعني كل شاة بقيراط. وقال غيره: قراريط جبل بمكة. ومن المحتمل حديث ابن عمر في الذين أوتوا التوراة: أعطوا قيراطا قيراطا. وحديث الباب، وحديث أبي هريرة: من اقتنى كلبا نقص من عمله كل يوم قيراط.
وقد جاء تعيين مقدار القيراط في حديث الباب بأنه مثل أحد كما سيأتي الكلام عليه في الباب الذي يليه، وفي رواية عند أحمد، والطبراني في الأوسط من حديث ابن عمر: قالوا: يا رسول الله، مثل قراريطنا هذه؟ قال: لا، بل مثل أحد. قال النووي وغيره: لا يلزم من ذكر القيراط في الحديثين تساويهما، لأن عادة الشارع تعظيم الحسنات وتخفيف مقابلها، والله أعلم. وقال ابن العربي القاضي: الذرة جزء من ألف وأربعة وعشرين جزءا من حبة، والحبة ثلث القيراط، فإذا كانت الذرة تخرج من النار فكيف بالقيراط؟ قال: وهذا قدر قيراط الحسنات، فأما قيراط السيئات فلا."
(کتاب الجنائز، باب فضل اتباع الجنائز، ج:3، ص:194، ط: دار المعرفۃ)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(الفصل الخامس في الصلاة على الميت) الصلاة على الجنازة فرض كفاية إذا قام به البعض واحدا كان أو جماعة ذكرا كان أو أنثى سقط عن الباقين وإذا ترك الكل أثموا، هكذا في التتارخانية."
(کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الخامس فی الصلاۃ علی المیت، ج:1، ص:162، ط:دار الفكر بيروت)
سیراعلام النبلاء میں ہے :
"عن ابن المبارك، قال: من استخف بالعلماء، ذهبت آخرته، ومن استخف بالأمراء، ذهبت دنياه، ومن استخف بالإخوان، ذهبت مروءته."
ترجمہ: "حضرت عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں :جو شخص علماء کی بے قدری کرے گا وہ اخروی زندگی سے محروم رہے گا، جو شخص بھی حکم رانوں کی بے قدری کرے گا وہ دنیوی زندگی سے محروم رہے گا اور جو شخص اپنے بھائی کی بے قدری کرے گا وہ اچھے اخلاق و کردار سے محروم رہے گا۔"
[سير أعلام النبلاء، ج:15،ص:407، ط:مؤسسة الرسالة بیروت]
بخاری شریف میں ہے:
"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله قال: «من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب، وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضت عليه، وما يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه، فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به، وبصره الذي يبصر به، ويده التي يبطش بها، ورجله التي يمشي بها، وإن سألني لأعطينه، ولئن استعاذني لأعيذنه، وما ترددت عن شيء أنا فاعله ترددي عن نفس المؤمن؛ يكره الموت وأنا أكره مساءته.»"
(کتاب الرقاق، باب التواضع ،ج:8 ،ص:105 ،ط:دار طوق النجاة - بيروت)
"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالی فرماتے ہیں :جس نے میرے کسی ولی (دوست) سے دشمنی کی، میں اس کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے، ان میں سب سے زیادہ محبوب چیز وہ ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے۔اور میرا بندہ نفل عبادات کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے،اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے،اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے،اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔اگر وہ مجھ سے کچھ مانگے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں،اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔اور میں کسی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں کرتا جتنا ایک مؤمن کی جان قبض کرنے میں کرتا ہوں،وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اسے تکلیف دینا ناپسند کرتا ہوں۔"
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100280
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن