بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا تین طلاقوں کو ایک قرار دینا حضرت عمررضی اللہ کا فیصلہ تھا؟


سوال

میری شادی آج سے ڈیڑھ سال پہلے ہوئی، شادی کے بعد میری اہلیہ ازدواجی تعلق قائم نہیں کرنےدیتی  تھی ،ایک دن میں شدید غصے میں تھا، اس حالت میں میں نے اپنی بیوی کو یوں تین طلاقیں دے دیں”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں“اس کے بعد میری بیوی کے بہنوئی، جو اہلِ حدیث ہیں، آئے اور مجھے ایک اہلِ حدیث عالم کے پاس لے گئے،اس عالم نے مجھ سے کہا،تم حضور ﷺ کی بات مانو گے یا حضرت عمرؓ کی،اس لیے  ایک طلاق واقع ہوئی ہے۔

اب میرا سوال یہ ہے:شرعاً کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟

میری بیوی کی عدت کا کیا حکم ہے؟چونکہ طلاق کو ڈھائی مہینے ہو چکے ہیں اور ہم اب تک اکٹھے رہ رہے ہیں، اور آخری مرتبہ آج سے 20 دن پہلے میاں بیوی کا تعلق بھی قائم ہوا تھا، طلاق کے بعد وہ سمجھ گئی تھی اورہمبستری کے لیے تیار ہوگئی تھی،

نیزبیوی عدت کہاں گزارےگی؟کیا عورت اپنی والدہ  کے گھر عدت گزار سکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل  نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے کہ:”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،  طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں “تو ان الفاظ سے از روئے قرآن و حدیث اور صحابہ کرام ،تابعین اور تبع تابعین، ائمہ مجتہدین بالخصوص چاروں ائمہ امام اعظم ابو حنیفہ ،امام مالک ،امام شافعی، امام احمد بن حنبل  کے نزدیک تین طلاقین  واقع ہوگئیں اور وہ اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی،اب شوہر کے لیے مطلقہ بیوی رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا حرام ہے،مطلقہ بیوی اپنی عدت(مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو،  اور ماہواری آتی ہو، اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک کا عرصہ) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

نیزاکھٹی دی گئی تین طلاقوں کو ایک قرار دینا صریح  گم راہی ہے، ایسے فتوی پر عمل کرنا قطعًا ناجائز ہے۔ 

نیزطلاق  کے بعد دونوں کا ساتھ رہنا، صحبت کرنا قطعا ناجائز اور حرام تھا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً علیحدہ ہوجائیں اور اتناعرصہ ساتھ رہنے کی وجہ سے حرام کاری کے جو مرتکب ہوئے  ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کے حضور خوب توبہ و استغفار کریں۔

نیز طلاق کے بعد سے ہی سائل  کی  بیوی کی عدت شروع ہوگئی تھی، اورمطلقہ بیوی   عدت شوہر کے گھر ہی میں گزارےگی،  کسی شدید مجبوری کے بغیر  دوسری جگہ عدت گزارنا جائز نہیں ہے۔

ملحوظ رہےکہ مذکورہ عالم  کا یہ کہنا ہر گز درست نہیں ہے کہ  ایک لفظ کے ساتھ تین طلاقیں واقع ہونا حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کا فیصلہ ہے، کیوں کہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ہی اکٹھے تین طلاقیں تین شمار ہوتی تھیں، چنانچہ سننِ دار قطنی میں واقعہ مذکورہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دینے کے بعد فرمایاتھا کہ اگر میں نے اپنے نانا سے یہ نہ سنا ہوتا کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو اکھٹی تین طلاقیں دی ہوں یا تین طہروں میں تین طلاقیں دی ہوں تو وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک وہ دوسرے شوہر سے شادی کرلے، تو میں اس سے رجوع کرلیتا۔

جن  روایات میں اس بات کا تذکرہ ملتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں تین طلاقیں ایک طلاق شمار ہوتی تھیں ان کا صحیح مطلب اور محمل یہ ہے کہ دور نبوی اور دور صدیقی میں اگر کوئی شخص ایک مجلس میں اپنی بیوی کو کہتا کہ تمہیں طلاق ہے،تمہیں طلاق ہے،تمہیں طلاق ہے،اور وہ بعد والی دو طلاقوں سے تاکید کی نیت بیان کرتا تھا تو اس کی بات کو تسلیم کرکے ایک طلاق کا فیصلہ دیا جاتا تھا، دور فاروقی میں جب  لوگ کثرت کے ساتھ اکٹھی تین طلاقیں دینے لگے اور تین طلاقیں دے کر ایک طلاق کی نیت کا دعوی کرنے لگے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نےتاکید کی نیت والی بات قبول کرنے سے منع فرما دیا،اور اس پر تمام صحابہ کا اجماع ہوگیا،چناچہ یہی مذہب جمہور صحابہ،تابعین اورائمہ اربعہ کا ہے ۔

اور اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تین طلاقیں ایک ہوتیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے تین ہونے کا فیصلہ کیسے صادر فرماسکتے تھے؟ نیز تین طلاقوں کے ایک ہونے کی روایات حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سے مروی ہیں جبکہ ان کا فتوی اس کے برخلاف تین طلاقوں کے تین طلاق ہونے کا تھا، تو اگر دور نبوی میں تین طلاقوں کے ایک طلاق ہونے کا یہ مطلب ہوتا کہ ایک مجلس میں کوئی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے اس کے باوجود اسے ایک شمار کیا جائے تو حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی روایت کے خلاف کیسے فتوی دیتے؟

مؤطا امام مالک میں ہے:

"حدثنا مالك؛ أنه بلغه، أن رجلا قال لابن عباس: إني طلقت امرأتي مائة، فماذا ترى؟ قال ابن عباس: طلقت ثلاثا، وسبع وتسعون اتخذت بها آيات الله لعبا هزوا."

(كتاب الطلاق، باب ما جاء في البتة، ج:1، ص:605، ط:مؤسسة الرسالة  بيروت)

ترجمہ:”امام مالک نے ہمیں حدیث سنائی کہ ان تک یہ بات پہنچی کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے اپنی بیوی کو سَو طلاقیں دے دی ہیں، آپ کیا رائے رکھتے ہیں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:تم نے تین طلاقیں دی ہیں، اور باقی ستانوے طلاقوں کے ذریعے تم نے اللہ کی آیات کو مذاق اور کھیل بنا لیا ہے۔“

صحیح مسلم میں ہے:

"عن ابن عباس، قال: كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وسنتين من خلافة عمر، طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد استعجلوا في أمر قد كانت لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم، فأمضاه عليهم."

(کتاب الطلاق،باب طلاق الثلاث، ج: 2، ص: 1099، ط: مطبعة عیسی البابی الحلبی)

"ترجمہ:معمر نے ہمیں ابن طاوس سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد (طاوس بن کیسان) سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے (ابتدائی) دو سالوں تک (اکٹھی) تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھی، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں نے ایسے کام میں جلد بازی شروع کر دی ہے جس میں ان کے لیے تحمل اور سوچ بچار (ضروری) تھا۔ اگر ہم اس (عجلت) کو ان پر نافذ کر دیں (تو شاید وہ تحمل سے کام لینا شروع کر دیں) اس کے بعد انہوں نے اسے ان پر نافذ کر دیا۔ "

فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ہے:

"الخامس دعوى أنه ورد في صورة خاصة فقال بن سريج وغيره يشبه أن يكون ورد في تكرير اللفظ كأن يقول أنت طالق أنت طالق أنت طالق وكانوا أولا على سلامة صدورهم يقبل منهم أنهم أرادوا التأكيد فلما كثر الناس في زمن عمر وكثر فيهم الخداع ونحوه مما يمنع قبول من ادعى التأكيد حمل عمر اللفظ على ظاهر التكرار فأمضاه عليهم وهذا الجواب ارتضاه القرطبي وقواه بقول عمر إن الناس استعجلوا في أمر كانت لهم فيه أناة وكذا قال النووي إن هذا أصح الأجوبة الخ."

(کتاب الطلاق،باب من جوز الطلاق الثلاث،ج:9،ص:364،ط:دار المعرفۃ)

سنن نسائی میں ہے:

"أخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال: أخبرني مخرمة، عن أبيه، قال: سمعت محمود بن لبيد، قال: أخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا، فقام غضبانا ثم قال: أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم؟ حتى قام رجل وقال: يا رسول الله، ألا أقتله؟"

(کتاب الطلاق، الثلاث المجموعة وما فیه من التغلیظ، ج: 6، ص: 142، ط: مکتب المطبوعات الإسلامیة)

ترجمہ: حضرت محمود بن لبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں، (یہ سن کر) آپ غصے سے کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: ”میرے تمہارے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی تم اللہ کی کتاب (قرآن) کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگے ہو ۱، (آپ کا غصہ دیکھ کر اور آپ کی بات سن کر) ایک شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں نہ میں اسے قتل کر دوں؟

سنن دار قطنی میں ہے:

"عن سويد بن غفلة ، قال: كانت عائشة الخثعمية عند الحسن بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه ، فلما أصيب علي وبويع الحسن بالخلافة ، قالت: لتهنك الخلافة يا أمير المؤمنين ، فقال: ‌يقتل ‌علي ‌وتظهرين ‌الشماتة اذهبي فأنت طالق ثلاثا، قال: فتلفعت نساجها وقعدت حتى انقضت عدتها وبعث إليها بعشرة آلاف متعة وبقية بقي لها من صداقها، فقالت: متاع قليل من حبيب مفارق، فلما بلغه قولها بكى وقال: لولا أني سمعت جدي، أو حدثني أبي، أنه سمع جدي يقول: «أيما رجل طلق امرأته ثلاثا مبهمة أو ثلاثا عند الإقراء لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره» لراجعتها."

 (كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره، ج:5، ص:55، ط:مؤسسة الرسالة)

ترجمہ:سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں: عائشہ خثعمیہ نامی ایک خاتون سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی اہلیہ تھی، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی گئی، تو اس خاتون نے کہا: ”امیر المؤمنین! آپ کو خلافت مبارک ہو۔“ تو امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے اور تم مبارک باد دے رہی ہو، جاؤ، تمہیں تین طلاقیں ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس عورت نے اپنی چادر لپیٹ لی، یہاں تک کہ جب اس کی عدت پوری ہو گئی، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو اس کا بقیہ مہر اور اس کے ساتھ دس ہزار (درہم یا دینار) متاع کے طور پر بھجوائے، تو وہ عورت بولی: ”جدا ہو جانے والے محبوب کے مقابلہ میں یہ سامان بہت تھوڑا ہے۔“ جب سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا گیا، تو وہ رو پڑے اور فرمایا: ”اگر میں نے اپنے نانا کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا،یا میرے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے یہ مجھے حدیث سنائی ہے، انہوں نے میرے نانا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اپنی بیوی کو تین مبہم طلاقیں دے، یا جو شخص اپنی بیوی کو تین قروء (یعنی تین طہر) کے وقت تین طلاقیں دے دے، تو وہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔“ (امام حسن فرماتے ہیں:) تو میں اس سے رجوع کر لیتا.“

شرح معانی الآثار میں ہے:

"حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال: ثنا أبو حذيفة قال: ثنا سفيان، عن الأعمش، عن مالك بن الحارث قال: جاء رجل إلى ابن عباس فقال: إن عمي طلق امرأته ثلاثا، فقال: إن عمك عصى الله فأتمه الله وأطاع الشيطان فلم يجعل له مخرجا. فقلت: كيف ترى في رجل يحلها له؟ فقال: من يخادع الله يخادعه."

(کتاب الطلاق، باب الرجل یطلق امرأته ثلاثا معا، ج:3، ص:57، ط:دار عالم الکتب)

ترجمہ:حضرت ابراہیم بن مرزوق بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم سے ابو حذیفہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، الاعمش سے، وہ مالک بن الحارث سے روایت کرتے ہیں کہ:ایک آدمی حضرت ابنِ عباسؓ کے پاس آیا اور عرض کیا: میرے چچا نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا:“تمہارے چچا نے اللہ کی نافرمانی کی، تو اللہ نے اس (طلاق) کو نافذ کر دیا، اور اس نے شیطان کی اطاعت کی، لہٰذا اللہ نے اس کے لیے کوئی نکلنے کی صورت نہ رکھی۔راوی کہتا ہے: میں نے کہا: آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو اس عورت کو اس کے لیے حلال کر دے؟حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا:“جو اللہ سے دھوکا کرتا ہے، اللہ اس کو دھوکے میں ڈال دیتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث."

(کتاب الطلاق، ص:233، ج:3، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولايخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لاتجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه."

(كتاب الطلاق، ج:3، ص:536، ط:سعيد)

 فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامة، لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا، ویدخل بها، ثم یطلقها او یموت عنها."

(کتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:473، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707102376

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں