بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا تراویح سنت مؤکدہ ہے؟


سوال

 تراویح کا جو رواج ہے وہ حضرت  عمر فاروق رضی اللہ  عنہ کے دور میں شروع ہوا تھا تو تراویح سنت مؤکدہ کیسے ہوئی ؟

جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پورے رمضان نہیں پڑھایا اور جب پڑھائی وہ وقت تہجد کا تھا۔

جواب

رمضان المبارک میں تراویح کا اہتمام کرنا احادیث و آثار اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل سے ثابت ہے، چنانچہ حدیث کی مشہور و معروف کتاب صحیح مسلم میں "‌‌باب الترغيب في قيام رمضان، وهو التراويح"کے تحت حدیث ہے:

"عن ‌عائشة « أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى في المسجد ذات ليلة فصلى بصلاته ناس. ثم صلى من القابلة فكثر الناس. ثم اجتمعوا من الليلة الثالثة أو الرابعة، فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم. فلما أصبح قال: قد رأيت الذي صنعتم، فلم يمنعني من الخروج إليكم. إلا أني خشيت أن تفرض عليكم. قال: وذلك في رمضان »."

(كتاب الصلاة، رقم الحديث:761، ج:2، ص:177، ط:دارالمنهاج)

ترجمہ:"  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے (رمضان کی) ایک رات مسجد میں نماز (تراویح) پڑھی،  لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر دوسری رات کی نماز میں شرکاء زیادہ ہوگئے،تیسری یا چوتھی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ  تراویح کے لیے مسجد میں تشریف نہ لائے اور صبح کو فرمایا کہ میں نے تمہارا شوق دیکھ لیا اور میں اس ڈر سے نہیں آیا کہ کہیں یہ نماز تم پر رمضان میں فرض نہ کردی جائے۔"

خلفائے راشدین(حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ،حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ،حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ)اور کبار صحابہ  کرام سمیت تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تراویح پڑھنا ثابت ہے، بالخصوص حضرت عمر رضی اللہ عنہ (جو خود خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں سے ایک، اور بہت بڑے فضائل کے حامل ہیں) نے جلیل القدر فقہاء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں رمضان المبارک میں باجماعت تراویح کا اہتمام کروایا تو سب نے اس کی تحسین کی، کسی ایک نے بھی نکیر نہیں کی ،چنانچہ مؤطا امام مالکؒ میں ہے:

" كان ‌الناس ‌يقومون ‌في زمان عمر بن الخطاب في رمضان بثلاث وعشرين ركعة."

(كتاب الصلاة في رمضان،ج:1،ص:115،ط:دارإحياءالتراث العربي)

ترجمہ:لوگ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رمضان المبارک میں 23رکعتیں پڑھتے تھے (بیس تراویح کی اور تین رکعات وتر کی)۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور ان کے بعد دونوں خلیفۂ راشد کے دور میں بھی تراویح باجماعت بیس رکعات ادا کی جاتی رہی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہم لوگوں سے زیادہ دین و شریعت کے معاملے میں سنجیدہ اور حساس تھے، دین میں اضافے کی تردید اور دین کی بنیادوں کی حفاظت میں کوئی ان جیسا نہیں ہوسکتا، ان کی مکمل زندگی اس کی شہادتوں سے بھرپور ہے۔ خصوصاً اعمالِ عبادت میں یہ حضرات،  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و ہدایت اور قرآن و سنت سے حاصل شدہ تعلیمات سے ہٹ کر کوئی قدم نہیں اُٹھاتے تھے،  اگر ان کے پاس سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی دلیل نہ ہوتی، کبھی بھی اسے اختیار نہ کرتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین راتوں میں باجماعت تراویح ادا فرمائی، باقی میں باجماعت ادا نہ کرنے کی وجہ بھی بیان فرمادی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد اب فرائض میں اضافے کا امکان بالکل بھی نہیں رہا، اس لیے تراویح جسے انفرادی ادا کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے جماعت بھی ثابت ہوچکی تھی اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے باجماعت پڑھنے پر اتفاق کرلیا، ان کا اختلاف نہ کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یقیناً ان حضرات کی نگاہوں میں اس کے مآخذ اور دلائل تھے، کیوں کہ صحابہ کرام کسی منکر اور بدعت بات پر جمع ہونے والے نہیں تھے، بلکہ وہ حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال وافعال دیکھ کر اس کی نقل کرنے والے تھے، اور اجماعِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی وجہ سے بھی اس کی تاکید بڑھ جاتی ہے۔نیزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی  اپنے خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرنے  کا تاکیدی حکم دیا ہے، لہذا اُن حضرات کا کیا ہو اعمل بھی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی مانند ہے، اور ان کی اطاعت بھی رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی ہی اطاعت ہے۔

شرح مشکل  الآثار میں ہے:

" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عليكم ‌بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين من بعدي وعضوا عليها بالنواجذ ."

(‌‌باب بيان مشكل ما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الزمان الذي يجب على الناس فيه الإقبال على خاصتهم وترك عامتهم،ج:3، ص:223، ط:مؤسسة الرسالة)

ترجمہ:"رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میرے بعد میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رکھنا۔"

مذکوربالا دلائل کی  بنیاد پر فقہائے کرام نے تراویح کو سنتِ مؤکدہ قرار دیاہے،اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کے دور کےبعد سے لے کر آج تک تابعین ، تبع تابعین ،ائمہ مجتہدین، سلف صالحین سے پورے اہتمام کے ساتھ تراویح پڑھنا ثابت ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101060

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں