
میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص روزہ نہ رکھے تو کیا وہ پھر بھی تراویح پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ کیا تراویح کی نماز پڑھنے کے لیے روزہ رکھنا شرط ہے یا نہیں؟
رمضان المبارک کے دنوں میں روزہ رکھنا ایک مستقل فریضہ اور عبادت ہے، اور راتوں میں قیام اللیل، بالخصوص نمازِ تراویح ادا کرنا بھی ایک مستقل عبادت ہے۔ نمازِ تراویح پڑھنے اور اس کی صحت کے لیے دن کو روزہ رکھنا ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص شرعی عذر کی وجہ سےروزہ نہ رکھ سکے تو وہ نہ صرف تراویح پڑھ سکتا ہے، بلکہ اسے تراویح پڑھنی چاہیے۔ تاہم بلا عذر جان بوجھ کر رمضان المبارک کے روزے نہ رکھنا بڑی محرومی کی بات ہے اور باعثِ گناہ ہے۔
حدیث شریف میں ہے:
"عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه. ومن قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه. ومن قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه»."
(مشكاة المصابيح، كتاب الصوم، الفصل الأول، رقم الحديث:1958، ج:1، ص:610، ط:المكتب الإسلامي، بيروت)
ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اور جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں قیام (نماز) کرے، اس کے بھی پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اور جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر میں قیام کرے، اس کے بھی پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(التراويح سنة) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) إجماعا."
(كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:43، ط:ایج ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100722
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن