
سعودی عرب کے بعض علماء مسجد عائشہ ( تنعیم )سے عام حالات میں عمرے کا احرام باندھنے کو غلط قرار دیتے ہیں،(جیسا کہ عمرہ یا حج کے لئے جو لوگ جاتے ہیں ،وہاں رہتے ہوئے روزانہ مسجد عائشہ سے احرام باندھ کر عمرہ کرتے ہیں اس کو وہاں کے علماء غلط قرار دیتے ہیں)
اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کو عذر پر محمول کرتے ہیں ۔
حضرات مفتیان کرام سے درخواست ہے کہ مسجد عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (تنعیم )سے عمرے کا احرام باندھنے سے متعلق مزید روایات یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے علاوہ باحوالہ تفصیل سے ذ کر فرما دیں؟اورجو صحابہ رضوان اللہ تعالی ٰ اجمعین مکہ میں مقیم یا موجود ہوتے تھے، کیا وہ بھی تنعیم یعنی مسجد عائشہ سے عمرے کا احرام باندھتے تھے ؟
1۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے علاوہ اورروایت جس میں تنعیم سے احرام باندھنے کا ذکر ہےوہ درج ذیل ہے:
موطأ مالك میں ہے:
"أخبرنا أبو مصعب، قال: حدثنا مالك، عن هشام بن عروة ، أنه أخبره أنه رأى عبد الله بن الزبير أحرم بعمرة من التنعيم، قال: ثم رأيته يسعى حول البيت الأشواط الثلاثة."
(كتاب المناسك، باب الرمل في الطواف، ج:1، ص:498، ط:مؤسسة الرسالة)
ترجمہ :حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے عبد اللہ ابن زبیر کو دیکھا کہ انہوں نے تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا۔ پھر کہا: میں نے انہیں دیکھا کہ وہ بیت اللہ کے گرد تین چکروں میں سعی کر رہے تھے۔
اوریہ حدیث دلالت کررہی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ اورصحابہ یعنی حضرت عبد اللہ بن زبیر نے بھی تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا ۔
الغرض مقامِ تنعیم یعنی مسجدِ عائشہ سے احرام باندھنے کی اجازت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص نہیں تھی، بلکہ جو مکی اور جو اہلِ مکہ کے حکم میں ہو اس کے لیے یہ اجازت ہے۔اہل عرب کا اسے غلط قراردینایاحضرت عائشہ کی روایت کو عذر پر محمول کرنادرست نہیں،اس لیےکہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے مکہ والے اور جو اُن کے حکم میں ہیں ان کے لیے حل کے میقات ہونے پر اجماع نقل کیا ہے، اور مقامِ تنعیم بلاشبہ حل میں داخل ہے۔
اوررہاحضرت عائشہ رضی اللہ کی رویت کے علاوہ اور روایت اورصحابہ کا عمل توحضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے عبد اللہ ابن زبیر کو دیکھا کہ انہوں نے تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا۔
موطأ مالك میں ہے:
"أخبرنا أبو مصعب، قال: حدثنا مالك، عن هشام بن عروة ، أنه أخبره أنه رأى عبد الله بن الزبير أحرم بعمرة من التنعيم، قال: ثم رأيته يسعى حول البيت الأشواط الثلاثة."
(كتاب المناسك، باب الرمل في الطواف، ج:1، ص:498، ط:مؤسسة الرسالة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و) الميقات (لمن بمكة) يعني من بداخل الحرم (للحج الحرم وللعمرة الحل)؛ ليتحقق نوع سفر، والتنعيم أفضل.
وفي الرد: والمراد بالمكي من كان داخل الحرم سواء كان بمكة أو لا، وسواء كان من أهلها أو لا. فيشمل الآفاقي المفرد بالعمرة والمتمتع والحلال من أهل الحل إذا دخل الحرم لحاجة كما في اللباب ..... (قوله والتنعيم أفضله) هو موضع قريب من مكة عند مسجد عائشة، وهو أقرب موضع من الحل ط أي الإحرام منه للعمرة أفضل من الإحرام لها من الجعرانة.وغيرها من الحل عندنا، وإن كان صلى الله عليه وسلم أحرم منها؛ لأمره عليه الصلاة والسلام عبد الرحمن بأن يذهب بأخته عائشة إلى التنعيم؛ لتحرم منه، والدليل القولي مقدم عندنا على الفعلي."
(كتاب الحج، فصل في الإحرام وصفة المفرد، ج:2، ص:479، ط: سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ووقت المكي للإحرام بالحج الحرم، وللعمرة الحل كذا في الكافي، فيخرج الذي يريد العمرة إلى الحل من أي جانب شاء كذا في المحيط والتنعيم أفضل كذا في الهداية."
(کتاب المناسک، الباب الثانی، ج:1، ص:221، دار الفکر)
المغنی لابن قدامہ میں ہے:
"مسألة؛ قال: (وأهل مكة إذا (1) أرادوا العمرة، فمن الحل، وإذا (2) أرادوا الحج، فمن مكة)
أهل مكة، من (3) كان بها، سواء كان مقيما بها أو غير مقيم؛ لأن كل من أتى على ميقات كان ميقاتا له، فكذلك كل من كان بمكة فهى ميقاته للحج؛ وإن أراد العمرة فمن الحل. لا نعلم في هذا خلافا. ولذلك أمر النبى صلى الله عليه وسلم عبد الرحمن ابن أبي بكر أن يعمر عائشة من التنعيم. متفق عليه (4). وكانت بمكة يومئذ، والأصل في هذا قول النبى صلى الله عليه وسلم: "حتى أهل مكة يهلون منها" (5). يعنى للحج. وقال أيضا: "ومن كان أهله دون الميقات فمن حيث ينشئ، حتى يأتى ذلك على أهل مكة" (5). وهذا في الحج. فأما في العمرة فميقاتها في حقهم الحل، من أى جوانب الحرم شاء؛ لأن النبى صلى الله عليه وسلم. أمر بإعمار عائشة من التنعيم، وهو أدنى الحل إلى مكة. وقال ابن سيرين: بلغنى أن النبى صلى الله عليه وسلم وقت لأهل مكة التنعيم (6). وقال ابن عباس: يا أهل مكة، من أتى منكم العمرة، فليجعل بينه وبينها بطن محسر (7). يعنى إذا أحرم بها من ناحية المزدلفة. وإنما لزم الإحرام من الحل، ليجمع في النسك بين الحل والحرم، فإنه لو أحرم من الحرم، لما جمع بينهما فيه، لأن أفعال العمرة كلها في الحرم، بخلاف الحج،«فإنه يفتقر إلى الخروج إلى عرفة، فيجتمع له الحل والحرم، والعمرة بخلاف ذلك. ومن أي الحل أحرم جاز. وإنما أعمر النبى صلى الله عليه وسلم عائشة من التنعيم؛ لأنها أقرب الحل إلى مكة."
(كتاب الحج، باب ذكر المواقيت، ج:5، ص: 60، ط:دار عالم الكتب)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702102147
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن