بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا صرف نام کرنے سے دکان اور مکان کی ملکیت ثابت ہوگی؟


سوال

میں نے ایک دکان جس کی قیمت پانچ کروڑ تھی ، اپنے چھ بیٹوں کے نام کی، صرف اس لیے تاکہ ٹیکس وغیرہ سے بچ سکیں، اسی طرح دومکانات میں سے ایک مکان چار بیٹوں کے نام کیا اور ایک مکان دو بیٹوں کے نام کیا، مکانات بھی صرف ٹیکس وغیرہ سے بچنے کے لیے ان کے نام کیا تھا، ابھی تک مکانات کا قبضہ بھی ان کو نہیں دیا ہے، بلکہ ایک مکان میں ہم سب رہتے ہیں، اور دوسرا کرایہ پر دیا ہوا ہے، اور اس کا لین دین کرایہ سب میں وصول کررہا ہوں، لیکن بیٹوں نے دکان صرف ڈیڑھ کروڑ روپے میں بیچ دی، اب مجھے خطرہ ہے کہ وہ مکان نہ بیچ دیں کیونکہ مکانات ان کے نام کیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ مکانات کس کی ملکیت ہیں ، کیا بیٹوں کےلیے اس کا بیچنا جائز ہے؟

جواب

بصورتِ صدقِ سائل صورتِ مسئولہ میں دکانیں اور مکانات دو نوں کی ملکیت  شرعاًبدستور سائل ہی کی ہے، سائل کے بیٹوں کی نہیں، لہذا سائل کی اجازت اور رضامندی کے بغیر ان کا بیچناجائز نہیں، نیز اگر سائل کے بیٹوں نے مذکورہ دکان سائل کی رضامندی کے بغیر بیچ دی  ہےتو ان کایہ بیچنا بھی جائز نہیں تھا، سائل اگر چاہے تواپنی اصل دکان واپس کروائے  یاچاہے تو اس کی قیمت ان سے وصول کرے۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن ‌سعيد بن زيد قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."

( كتاب البيوع، باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها، رقم الحديث: ١٦١٠، ط: دار الطباعة العامرة - تركيا)

ترجمہ:حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وقوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة، ولو قال: أغرس باسم ابني، فالأمر متردد، وهو إلى الصحة أقرب اهـ."

( كتاب الهبة ، ج:5، ص:689، ط:سعيد)

شرح المجلۃ میں ہے:

"لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي و إن أخذ ولو علی ظن أنه ملکه وجب علیه ردہ عینا إن کان قائما وإلا فیضمن قیمته إن کان قیمیا."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادۃ:97، ج:1، ص:51 ، ط: رشدیه) 

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100748

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں