
ہم نے سونے کا کاروبار شروع کیا، تین بندوں نے الگ الگ ہمیں پیسے دیئے اور ہر ایک کے ساتھ الگ الگ معاملہ ہوا، اس میں ہمارا سونا اور پیسے بھی پہلے سے تھے، کام ہمارے ذمہ ہوا، ہم نے ان سے کہا کہ اگر نقصان ہماری غفلت اور تعدی کی وجہ سے نہ ہو تو ہم ضامن نہیں ہوں گے، اسی طرح یہ بھی طے ہوا تھا کہ ہر مہینہ کے منافع فیصد کے اعتبار سے مہینہ کے اندر تقسیم ہوا کریں گے، تقریباً چھ مہینے کام چلا اور ہر مہینہ کے منافع تقسیم ہوتے رہے، اب گزشتہ مہینے میں ڈکیتی ہوئی اور وہ لوگ کچھ زیورات لے گئے، سوال یہ ہے کہ اس نقصان کی تلافی تمام مہینوں کے منافع سے کی جائے گی یا اسی مہینہ کے منافع سے؟ حالانکہ ہم نے ان سے کہا بھی تھا کہ اگر ہماری غفلت کی وجہ سے نقصان نہ ہو تو ہم ضامن نہیں ہوں گے اور ما قبل تمام مہینوں کا منافع تقسیم بھی ہوا ہے۔
واضح رہے کہ شرکت میں نقصان شریکین میں سے ہر ایک پر اس کی طرف سے کاروبار میں شامل کی گئی رقم کے اعتبار سے ہی آتا ہے۔نیز جو عقد کیا ہو اس کے مکمل طور پر ختم کرنے سے پہلےکسی متعین دورانیےمیں نفع ونقصان کی عارضی تقسیم سے عقد ختم نہیں ہوتا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ڈکیتی کی صورت میں جو نقصان ہوا ہے پہلے اس کی تلافی سابقہ مہینوں کے تقسیم شدہ منافع میں سے سائل اور اس کے شرکاء میں سے ہر ایک کی طرف سے شامل کی گئی رقم کے اعتبار سے ہوگی اور اگر اس سے تلافی نہ ہوجائے تو اس کے بعد جو ہر ایک کی طرف سے اصل سرمایہ ہے اس سے ہر ایک کے سرمایہ کے اعتبار سے تلافی کی جائے گی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) لذا (تصح) عاما وخاصا ومطلقا ومؤقتا و (مع التفاضل في المال دون الربح وعكسه، وببعض المال دون بعض، وبخلاف الجنس كدنانير) من أحدهما (ودراهم من الآخر
(قوله: ومع التفاضل في المال دون الربح) أي بأن يكون لأحدهما ألف وللآخر ألفان مثلا واشترطا التساوي في الربح.......لكن هذا مقيد بأن يشترط الأكثر للعامل منهما أو لأكثرها عملا، أما لو شرطاه للقاعد أو لأقلهما عملا فلا يجوز كما في البحر عن الزيلعي والكمال.قلت: والظاهر أن هذا محمول على ما إذا كان العمل مشروطا على أحدهما.وفي النهر: اعلم أنهما إذا شرطا العمل عليهما إن تساويا مالا وتفاوتا ربحا جاز عند علمائنا الثلاثة خلافا لزفر والربح بينهما على ما شرطا وإن عمل أحدهما فقط؛وإن شرطاه على أحدهما، فإن شرطا الربح بينهما بقدر رأس مالهما جاز، ويكون مال الذي لا عمل له بضاعة عند العامل له ربحه وعليه وضيعته، وإن شرطا الربح للعامل أكثر من رأس ماله جاز أيضا على الشرط ويكون مال الدافع عند العامل مضاربة، ولو شرطا الربح للدافع أكثر من رأس ماله لا يصح الشرط ويكون مال الدافع عند العامل بضاعة لكل واحد منهما ربح ماله والوضيعة بينهما على قدر رأس مالهما أبدا هذا حاصل ما في العناية اهـ ما في النهر.قلت: وحاصل ذلك كله أنه إذا تفاضلا في الربح، فإن شرطا العمل عليهما سوية جاز: ولو تبرع أحدهما بالعمل وكذا لو شرطا العمل على أحدهما وكان الربح للعامل بقدر رأس ماله أو أكثر ولو كان الأكثر لغير العامل أو لأقلهما عملا لا يصح وله ربح ماله فقط، وهذا إذا كان العمل مشروطا كما يفيده قوله إذا شرطا العمل عليهما إلخ."
(کتاب الشرکة، مطلب في توقيت الشركة، ج:4، ص:312، ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"(وحكمها الشركة في الربح،)
(قوله: وحكمها الشركة في الربح)......مطلب: اشتراط الربح متفاوتا صحيح، بخلاف اشتراط الخسران.......ثم يقول: فما كان من ربح فهو بينهما على قدر رءوس أموالهما،وما كان من وضيعة أو تبعة فكذلك، ولا خلاف أن اشتراط الوضيعة بخلاف قدر رأس المال باطل ."
(کتاب الشرکة، ج:4، ص:305، ط:سعید)
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
وذلك لو بقيت المضاربة بعد تقسيم الربح وتلف مؤخرا كل رأس المال أو بعضه فيرد الربح المأخوذ ويعاد إلى رأس المال ويكمل رأس مال رب المال وإذا زاد شيء عن ذلك فيأخذ رب المال والمضارب على الوجه المشروط وإذا نقص رأس المال فلا يضمنه المضارب. أما إذا قسم الربح وفسخت المضاربة ثم عقدت المضاربة بين رب المال والمضارب مجددا وتلف رأس المال فلا يلزم إعادة الربح الذي قسم في المضاربة المفسوخة؛ لأن المضاربة الأولى قد انتهت بالفسخ."
(الباب السابع فی حق المضاربة، الباب الثالث فی بیان أحکام المضاربة، ج:3، ص:459، ط:دار الجیل)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144704101413
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن