بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا شادی کی سالگرہ منانا بدعت ہے؟


سوال

کیا شادی کی سالگرہ (anniversary) کے دن کو یاد کر کے کوئی خاص عمل (جیسے باہر کھانا کھانا، تحفہ دینا، یا جشن منانا) کرنا بدعت میں آتا ہے؟

جواب

شادی  کی سالگرہ(anniversary)کے دن کو  یاد کر کے کوئی خاص عمل کرنا (مثلاً:باہر کھانا کھانا، تحفہ دینا یا خوشی منانا)شرعاً کسی دینی تقریب کی حیثیت نہیں رکھتا، اس لیے اسے بدعت نہیں کہا جائے گا، جب تک اسے دین یا عبادت کے طور پر نہ سمجھا جائے۔
البتہ چونکہ یہ عمل عمومًا غیر مسلموں کی تہذیب اور ان کی معاشرتی روایات سے ماخوذ ہے، اس لیے ان کی مشابہت اختیار کرنا درست نہیں۔ اگر اس موقع پر ایسی تقریبات یا انداز اپنائے جائیں جو ان کے ہاں رائج ہیں، تو یہ ناجائز اور قابلِ ترک ہیں، اور ان کی حوصلہ شکنی ضروری ہے، البتہ اگر غیر مسلموں کی مشابہت کا قصد نہ ہو، اور دیگر غیر شرعی امور (جیسے اسراف، بے پردگی، موسیقی وغیرہ) سے اجتناب کرتے ہوئے شادی کا ایک سال بخیر و عافیت مکمل ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے، باہمی محبت کے اضافے کے لیے تحفہ کا تبادلہ کیا جائے، یا اہلِ خانہ کے ساتھ کسی پردہ دار جگہ معمولی کھانا کھا لیا جائے، تو اس کی گنجائش ہے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن ‌عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد» رواه عبد الله بن جعفر المخرمي، وعبد الواحد بن أبي عون، عن سعد بن إبراهيم."

(كتاب الصلح،باب إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود،ج:3،ص:184،ط:السلطانية)

فتح الباری میں ہے:

"قال بن المنير فيه أن المندوبات قد تقلب مكروهات إذا رفعت عن رتبتها لأن ‌التيامن ‌مستحب في كل شيء أي من أمور العبادة لكن لما خشي بن مسعود أن يعتقدوا وجوبه أشار إلى كراهته."

(قوله باب الانفتال والانصراف عن اليمين والشمال، ج:2،ص:338، ط:دار المعرفة)

کفایت المفتی میں ہے:

”سالگرہ منانا کوئی شرعی تقریب نہیں ہے، ایک حساب اور تاریخ کی یادگار ہے ،اس کے لیے یہ تمام فضولیات  محض عبث اور التزام مالایلزم میں داخل ہیں۔“

( عنوان:سالگرہ منانے کی رسم، ج:9،ص:85،ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102066

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں