
بحیثیت مسلمان کے میرے اوپر میری سوتیلی والدہ کا کیا حق ہے؟ رشتےداروں کے جو حقوق ہم سنتے ہیں، کیا وہی سارے حقوق سوتیلی ماں کے بھی ہیں، یا ان سے کم یا زیادہ ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں بعض رشتہ داروں کے حقوق سوتیلی والدہ سے زیادہ ہیں، البتہ عام رشتہ داروں کے مقابلے میں سوتیلی ماں کے حقوق زیادہ ہیں، قرآن کریم میں سوتیلی ماؤں کی بھی ابدی حرمت اور ان کی تعظیم و توقیر بیان کی گئی ہے، لہذا سائل کے ذمہ ہے کہ سوتیلی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک اور اچھے اخلاق سے پیش آئے، اس کا احترام اور مالی مدد کرے، جہاں تک ممکن ہو اسے راضی رکھے، اس پر ظلم نہ کرے۔ تاہم حقیقی اور سگی ماں وہی اصل ماں ہے، ماں کے جس قدر حقوق قرآن وحدیث میں بیان کیے گئے ہیں وہ سب حقیقی ماں کے حقوق کے ہیں، سوتیلی ماں اور سوتیلی اولاد میں سے کسی کے انتقال کی صورت میں اس کی میراث میں دوسرے کو حصہ نہیں ملتا۔ نیز اگر سائل کا مطلب کسی خاص رشتے دار یا کسی خاص صورت کے حوالے سے سوتیلی والدہ کے حقوق کے بارے میں پوچھنا ہو، تو اس کو واضح ذکر کرکے جواب حاصل کریں ۔
قرآن کریم میں ہے:
﴿وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِيلًا (22) حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ... الآية(23)﴾
ترجمہ:"اور تم ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمہارے باپ (دادا، ابا، نانا) نے نکاح کیا ہو مگر جو بات گزر گئی گزر گئی بیشک یہ (عقلاً بھی) بڑی بے حیائی ہے اور نہایت نفرت کی بات ہے اور (شرعاً بھی) بہت برا طریقہ ہے۔ تم پر حرام کی گئی ہیں تمہاری مائیں... الآیہ"۔
(بیان القرآن از حکیم الامت اشرف علی تھانوی، ج:1، ص:343، سورت:النساء، آیت:22-23، ط:مکتبہ رحمانیہ)
فقط و اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102168
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن