بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا سوتیلی ماں بچی کی پرورش کر سکتی ہے؟


سوال

ایسی بچی جس کی ولادت کے فوراً بعد اس کی والدہ انتقال کر گئی ہو، اور بچی ابھی کم عمر ہو، تو کیا والد ، نانا نانی کی رضامندی کے بغیر اس بچی کو اپنی تحویل میں رکھ سکتا ہے یا دادی یا سوتیلی ماں کے ذریعے اس کی پرورش کروا سکتا ہے؟اسی طرح کیا نانا نانی، والد کی اجازت کے بغیر بچی کی بہتری کے پیشِ نظر، اس کی پرورش خالہ سے  کروا سکتے ہیں، جب کہ خالہ کی اپنی کوئی اولاد نہ ہو؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  والدہ کے انتقال کے بعد نو سال کی عمر تک بچی کی پرورش کا حق سب سے پہلے نانی کو حاصل ہوتاہے، اگر نانی خود پرورش کرنے پر قادر نہ ہو، تو یہ حق دادی کو منتقل ہو جائے گا، اگر دادی بھی پرورش کی قدرت نہ رکھتی ہو، تو ایسی صورت میں اگر بچی کی کوئی بہن ہو جو اس کی پرورش کر سکتی ہو، تو حقِ پرورش اس کی طرف منتقل ہوگا، ورنہ یہ حق خالہ کو حاصل ہو جائے گا، خالہ کے بعد یہ حق پھوپھی کو منتقل ہوگا۔

جب بچی نو سال کی عمر کو پہنچ جائے، تو اس کے بعد والد کو اسے اپنی تحویل میں لینے کا حق حاصل ہو جائے گا۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شرعی ترتیب کے  موافق بچی کی پرورش کا انتظام کیا جائے ۔

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور وأما أم أبي الأم فتؤخر عن أم الأب بل عن الخالة أيضا بحر (ثم الأخت لأب وأم ثم لأم) لأن هذا الحق لقرابة الأم (ثم) الأخت (لأب) ثم بنت الأخت لأبوين ثم لأم ثم لأب (ثم الخالات كذلك) أي لأبوين، ثم لأم ثم لأب، ثم بنت الأخت لأب ثم بنات الأخ (ثم العمات كذلك) ثم خالة الأم كذلك، ثم خالة الأب كذلك ثم عمات الأمهات والآباء بهذا الترتيب."

(كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص:562 ، ط:سعيد)

وفیہ ایضاً:

"(والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا.وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى.وبنت إحدى عشرة مشتهاة اتفاقا زيلعي.(وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك) وبه يفتى لكثرة الفساد زيلعي.(قوله: كذلك) أي في كونها أحق بها حتى تشتهى. (قوله: وبه يفتى) قال في البحر بعد نقل تصحيحه: والحاصل أن الفتوى على خلاف ظاهر الرواية."

(كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص:566 ، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101770

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں