بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا سرکاری ملازم کا کام جلدی کرکے اس کے بدلے رقم لینا جائز ہے؟


سوال

ایک سرکاری ادارہ ہے جس کے ذمے لوگوں کے کچھ کام ہوتے ہیں۔ وہاں لوگ اپنے کام کے لیے آتے ہیں اور ملازمین اپنا کام حسبِ معمول انجام دیتے ہیں۔ بعض اوقات اوپر کے افسران کی طرف سے فون آ جاتا ہے کہ فلاں آدمی کا کام جلدی کر دیا جائے، ہماری بھی مجبوری ہوتی ہے اور ان کا کام جلدی ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد جب اس آدمی کا کام مکمل ہو جاتا ہے تو وہ جاتے وقت کچھ رقم پانچ سو، ہزار روپے دے دیتا ہے۔ کام شروع ہونے سے پہلے پیسوں کی کوئی بات نہیں ہوتی، نہ ان لوگوں سے پیسوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے، نہ ان کو تنگ کیا جاتا ہے اور نہ ہی کام میں کوئی غفلت کی جاتی ہے۔ اگر کوئی پیسے نہ بھی دے تو اس کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاتی اور کام ویسے ہی ہو جاتا ہے۔

اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ اس طرح کام مکمل ہونے کے بعد کسی کی طرف سے خوشی سے دی گئی رقم لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں یہ رقم لینا، اگر چہ طے نہ کی گئی ہو اور نہ مطالبہ ہو، شرعاً رشوت کے حکم میں ہی ہے اور جائز نہیں۔ نیز اس طرح کسی کا کام جلدی کر دینے کی صورت میں پہلے سے لائن میں موجود لوگوں کی حق تلفی بھی ہوتی ہے؛ کیونکہ اصول یہ ہے کہ جو پہلے آئے اس کا حق پہلے ہے۔

لہٰذا سائل کے ذمہ جو کام ادارہ کی طرف سے سپرد کیا گیا ہے، اس میں کوتاہی نہ کرے، انصاف سے کام لے اور جو ترتیب مقرر ہوتی ہے اسی کے مطابق ہی کام انجام دے۔ بلاوجہ کسی کا کام جلدی کرنا اور پھر کام ہوجانے کے بعد رقم لیناشرعاً اور قانوناً درست نہیں۔ نیز افسرانِ بالا کو بھی چاہیے کہ قانونی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسے امور سے اجتناب کریں جو شریعت اور قانون دونوں کی نظر میں جرم ہوں۔

شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے:

"مسألة:قال: (ويقدم الناس على منازلهم في مجيئهم إلى مجلسه).

لما في حديث أبي هريرة الذي قدمنا، أن النبي عليه الصلاة والسلام قال: "إياكم والإقراد، يكون أحدكم عاملا أو أميرا، فتأتي الأرملة والمسكين واليتيم، فيقول: اقعد حتى أنظر في حاجتك، ويأتي الغني أو الشريف فيقعده إلى جنبه، ويقول: ما حاجتك؟ اقضوا حاجته، وعجلوا بها.

فقد دل هذا الخبر على أن من جاء أولا استحق النظر في أمره، لأنه نهاه عن تأخير قضاء حاجة المسكين الذي جاءه أولا، وتقديم حاجة الغني عليه؛ لأن السابق قد استحق ذلك قبل مجيء الآخر، فلا يسقط مجيء الآخر حقه في التقديم."

(‌‌كتاب أدب القاضي، ج: 8، ص: 5، ط: دار البشائر الإسلامية)

البحر الرائق میں ہے:

"وإصلاح ‌المهم ‌مستحق ‌عليه ‌ديانة، ‌وبذل ‌المال ‌فيما ‌هو ‌مستحق ‌عليه ‌حد ‌الرشوة ‌اهـ."

(‌‌كتاب القضاء، أخذ القضاء بالرشوة، ج: 3، ص: 162، ط: دار الكتاب الاسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

(قوله: أخذ القضاء برشوة) بتثليث الراء قاموس ‌وفي المصباح الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد،....وفي الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام:..... الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه.

الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط."

(‌‌كتاب القضاء، مطلب في الكلام على الرشوة والهدية، ج: 5، ص: 362، ط: سعيد)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144708101182

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں