بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا سیلزمین اپنی کمپنی سے نقد خرید کر آگے ادھار پربیچ سکتا ہے؟


سوال

میں ایک کمپنی میں سیلز مین ہوں اور تنخواہ پر کام کرتا ہوں۔ بعض خریدار ادھار پر مال لینا چاہتے ہیں، جب کہ کمپنی کی پالیسی یہ ہے کہ وہ ادھار پر مال نہیں دیتی۔ ایسی صورت میں کمپنی کی اجازت سے میں وہ مال کمپنی سے نقد خرید کر اپنے قبضے میں لے لیتا ہوں اور پھر کمپنی کی اجازت سے باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے وہی مال خریدار کو اپنی طرف سے ادھار پر  بیچ  دیتا ہوں۔

یہ نقد رقم میں بعض اوقات کسی انویسٹر سے لیتا ہوں، صورتِ مضاربت یوں ہوتی ہے کہ جب خریدار مجھ سے کسی چیز کی قیمت پوچھتا ہے،  تو میں اُس چیز کے نقدی ریٹس معلوم کر کے بتا دیتا ہوں اور خریدار سے کہتا ہوں کہ میں آپ کو یہ چیز اتنے (اپنا نفع رکھ کر) کی فراہم کر دوں گا، اگر خریدار راضی ہو جائے (واضح رہے کہ یہ صرف وعدۂ بیع ہوتا ہے) تو میں انویسٹر سے دریافت کرتا ہوں کہ کیا وہ اس خرید و فروخت میں میرا شریک ہونا چاہے گا؟ اگر انویسٹر ہامی بھر لے تو میں اس سے رقم لیتا ہوں اور اس رقم کے ذریعے کمپنی سے مال نقد خرید کر اپنے قبضے میں لے لیتا ہوں۔ قبضہ حاصل کرنے کے بعد میں دوبارہ خریدار سے کہتا ہوں کہ یہ مال آپ کو اتنے میں پہنچا دوں؟ تاکہ خرید و فروخت تام ہو جائے، خریدار اس پر رضا مندی ظاہر کر دیتا ہے۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا معاملہ شرعاً درست ہے؟ اگر درست نہیں تو اس کی جائز صورت کیا ہوگی؟ اور اس طریقے سے حاصل ہونے والے نفع کا حکم کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ اگر واقعۃً مذکورہ کمپنی ادھار پر اشیاء فروخت نہ کرتی ہو، اور سائل ادھار پر چیز خریدنے والے فرد سے اولاً وعدۂ بیع کرلے ، بعد ازاں کسی انویسٹر سے رقم لے کر مضاربت کی صورت میں وہ چیز نقد خرید کر اپنے قبضے میں لے لیتا ہو، اور پھر  باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے خریدار کو ادھار فروخت کرتا ہو، نیز مضاربت کی صورت میں مضاربت کی شرائط کی مکمل رعایت بھی رکھی جاتی ہو، تو ایسی صورت میں مذکورہ معاملہ شرعاً جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والا نفع حلال ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده ، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم."

(كتاب البيوع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، ج:5، ص:146، ط:دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وأما الثالث: وهو شرائط الصحة فخمسة وعشرون: منها عامة ومنها خاصة، فالعامة.... والخاصة معلومة الأجل في البيع المؤجل ثمنه، والقبض في بيع المشترى المنقول."

(كتاب البيوع، ج:4، ص:505، ط:سعيد)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"مشروعية المضاربة ثابتة بالسنة الشريفة وإجماع الأمة والاحتياج إليها...المضاربة نوع شركة على أن يكون رأس المال من طرف والسعي والعمل من الطرف الآخر."

(الكتاب العاشر الشركات، الباب السابع في حق المضاربة، الفصل الأول، رقم المادة:1404، ج:3، ص:425، ط:دار الجيل)

منحۃ الخالق  علی ہامش البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: لم يجز إلا بإذن سيده) قال في النهر وينبغي أن يكون الأجير الخاص كذلك لا يحل أذانه إلا بإذن مستأجره."

(كتاب الصلاة، باب الأذان، ج: 1، ص: 279، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100880

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں