بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا شدید مجبوری میں عورت خلع لے سکتی ہے؟


سوال

ہمارے نکاح کو آٹھ سال ہو گئے ہیں، نکاح کراچی میں میرے والد کے گھر پر ہوا تھا، نکاح کے بعد ہماری شادی بھی عام شادیوں کی طرح نہیں ہوئی،سادگی کے ساتھ نکاح ہوگیاتھا،پھر انہوں نے مجھے دبئی میں بلایا، یہ کہہ کر کہ نکاح تو ہو گیا ہے، دبئی میں میرے شوہر نے مجھے مارنا شروع کر دیا، بات بات پر لڑائی اور مار پیٹ کرتے تھے، دبئی میں انہوں نے مجھ سے ماسیوں کی طرح کام کروائے، اور دوسرے لوگوں کے گھروں میں جھاڑو اور روٹیاں بھی پکوائیں، پھر ہم پاکستان آئے، اور یہاں بھی اسی طرح مارنا پیٹنا اور گھر سے نکال دینا ان کا معمول بن گیا۔

میری ان سے ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے، انہوں نے رات کے وقت بھی مجھے گھر سے نکالا ہے اور میرے والد اور بہنوں کو گندی گالیاں بھی دیتے رہے، انہوں نے مجھے سریے سے بھی مارا ہے، وہ ایک نفسیاتی مریض ہیں، ہر بات پر جھگڑنا، غصہ کرنا اور مارنا ان کی عادت ہے، مثلاً تم کیوں کھڑی ہو، اس وقت کیوں سو رہی ہو، سالن میں نمک کم ہے وغیرہ، پھر جب انہوں نے مجھے بہت زیادہ ذلیل کرنا شروع کر دیا اور خود مجھے گھر سے نکالنے لگے، میری طرف سے ضد یا ضدی پن نہیں تھا، بلکہ وہ خود میرے والد اور بہنوں سے کہتے تھے کہ اسے لے جاؤ۔

میں وہاں سے نکلنا نہیں چاہتی تھی، لیکن وہ کہتے تھے کہ خود کماؤ اور کھاؤ، مفت کھانے کا زمانہ چلا گیا، اسی طرح مجھے خرچہ نہیں دیتے تھے اور بار بار راتوں کو بھی مجھے گھر سے نکالا، مجھے محسوس ہونے لگا کہ میرے بچے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہونے لگے ہیں، تو اس نے مجھے گھر سے نکال دیاتومیں مجبوراً ایک فلیٹ جو ابو نے دلوایا تھا، وہاں  رہنے لگی۔

پھر اس نے میری سگی تین بہنوں کو ایک ہی وقت میں یہ میسج کیا کہ "میں نے آپ کی بہن کو طلاق دے دی ہے"، انہوں نے کسی مفتی صاحب سے اس بارے میں پوچھا تھا، تو انہوں نے بتایا کہ ایک یا دو طلاق واقع ہوئی ہیں، آپ رجوع کر سکتے ہیں، پھر ہم دوبارہ اکٹھے رہنے لگے تھے، اب ڈیڑھ سال ہو چکا ہے کہ میں اس سے الگ فلیٹ میں رہ رہی ہوں،انہوں نےمجھے گھر بلایا، لیکن میں نہیں گئی، اس ساری صورتِ حال کے بعد میں اس کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتی اور خلع لینا چاہتی ہوں۔

میرے شوہر کا کہنا ہے کہ خلع کا کوئی اعتبار نہیں، طلاق کا حق صرف مرد کو ہے، تو کیا اس صورتِ حال میں میں خلع لے سکتی ہوں؟ اور اس کا شرعی و قانونی طریقہ کیا ہو گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا سائلہ کا شوہر نفسیاتی مریض ہو، سائلہ کو بلاوجہ بات بات پر تشدد کا نشانہ بناتاہو اور سائلہ کو نان نفقہ بھی نہ دیتا ہو اور ایسی حالت میں شوہر کے ساتھ رہنا ممکن نہ ہو اور بڑوں کے ذریعے صلح کی کوئی صورت بھی نہ بن سکتی ہو تو پھر سائلہ اپنے شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے، اگر وہ طلاق یا خلع نہ دے اور ظلم وستم سے باز بھی نہ آئے اور نہ ہی نان نفقہ دینے پر آمادہ ہو تو ایسی سخت مجبوری کی صورت میں سائلہ عدالت کے ذریعے اپنا نکاح فسخ کراسکتی ہے،  جس کا طریقہ یہ ہے کہ  سائلہ شوہر کے تشدد کرنے اور نان ونققہ نہ دینے کی بنیاد پرعدالت میں فسخ نکاح کا دعوی دائر کرے اور اپنے  نکاح اور اس دعوی پر شرعی گواہ بھی پیش کرے، عدالت اپنے طور پر اس معاملہ کی  پوری تحقیق کرے، اگر عورت کا دعویٰ  صحیح ثابت ہوجائے تو اولاً عدالت شوہر کو طلب کرکے نان نفقہ کی ادائیگی اور تشدد سے باز آنے کا کہے، اگر شوہر آمادہ ہوجائے تو ٹھیک، ورنہ عدالت اس نکاح کو فسخ کردے، فسخ نکاح کے بعد سائلہ عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔ 

واضح رہے کہ عدالتی یکطرفہ خلع شرعا معتبر نہیں ہوتا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"وَلا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً إِلَاّ أَنْ يَخافا أَلَاّ يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَاّ يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ فَلا جُناحَ عَلَيْهِما فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَعْتَدُوها وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ."[سورة البقرة، آية:229]

ترجمہ: ”اور تمھارے لیے یہ بات حلال نہیں کہ (چھوڑنے کے وقت) کچھ بھی لو، (گو) اس میں سے (سہی) جو تم نے ان کو (مہر میں) دیا تھا، مگر یہ کہ میاں بیوی دونوں کو احتمال ہو کہ الله تعالیٰ کے ضابطوں کو قائم نہ کرسکیں گے، سو اگر تم لوگوں کو یہ احتمال ہو کہ وہ دونوں ضوابطِ خداوندی کو قا ئم نہ کرسکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا اس (مال کے لینے دینے) میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑالے۔ یہ خدائی ضابطے ہیں، سو تم ان سے باہر مت نکلنا، اور جو شخص خدائی ضابطوں سے بالکل باہر نکل جائے سو ایسے ہی لوگ اپنا نقصان کرنے والے ہیں۔“ (از بیان القرآن)

بخاری شریف میں ہے:

"عن ابن عباس أنه قال: جاءت امرأة ثابت بن قيس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إني لا أعتب على ثابت في دين ولا خلق، ولكني لا أطيقه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (فتردين عليه حديقته). قالت: نعم."

(کتاب الطلاق،باب: الخلع وكيف الطلاق فيه، ج:5، ص2022،رقم الحدیث:4972، ط:دار ابن كثير)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، الباب الثامن، ج:1، ص:488، ط:رشیدیة)

مبسوطِ سرخسی میں ہے :

"والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6، ص:173، ط:دارالمعرفة بیروت)

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول لانه عقد على الطلاق بعوض."

(کتاب الطلاق،فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، ج:3، ص:145، ط:رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101560

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں