
میں رکشہ ڈرائیور ہوں، میرا چند اساتذہ (ٹیچرز) کے ساتھ ماہانہ کی بنیادوں پر یہ معاہدہ ہوا ہے کہ "ان کے تعلیمی اوقات میں ماہانہ پانچ ہزار روپے کے عوض ان کو سکول لے کر جانے اور واپس لانے کی ذمہ داری میری ہوگی"، البتہ یہ معاہدہ نہیں ہوا کہ جس دن میں نہ آ سکوں یا چھٹی کے دن ہو، تو تنخواہ میں سے کٹوتی ہوگی یا نہیں، البتہ فارغ اوقات میں اپنا عام کام کرتا ہوں۔
ایک ٹیچر کا معاملہ یہ ہے کہ جس دن میں نہیں جاتا ہوں تو اس دن کے پیسے کاٹتی ہے، باقی ٹیچرز نہیں کاٹتے ہیں، اور یہ کہ چھٹیوں کے دنوں کے پیسے بھی نہیں دیتی، حالانکہ وہ خود دو مہینے سکول کی چھٹیوں کی تنخواہ لے لیتی ہے، اور مجھے چھٹی کے دنوں کے پیسے نہیں دیتی۔ اور لاک ڈاؤن کے ایام میں چونکہ آن لائن کام ہو رہا تھا، ان دنوں کے پیسے بھی کاٹ دیے ہیں۔ اس ٹیچر نے کہا کہ آپ مسئلہ معلوم کریں، اگر آپ کا حق بنتا ہے، تو میں آپ کو پیسے دے دوں گی، ورنہ نہیں۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ کے مطابق کیا میں ان چھٹیوں کے پیسوں کا حقدار ہوں یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل اور اساتذہ کے درمیان یہ معاہدہ ہوا ہے کہ وہ "پڑھائی کے اوقات میں ماہانہ پانچ ہزار روپے کے عوض انہیں اسکول پہنچانے اور واپس لانے کا پابند ہوگا"، اس معاہدے کی بنیاد پر سائل کی حیثیت شرعی طور پر اجیرِ خاص کی ہے، اور اجیرِ خاص ملازمت کے مقررہ وقت پر حاضر رہنے سے اجرت (تنخواہ) کا مستحق ہوتا ہے، لہذا سائل چھٹیوں (سالانہ دو ماہ، لاک ڈاؤن وغیرہ) اور غیر حاضری کے دنوں کی تنخواہ کا مستحق نہیں ہے، نیز عرفِ عام بھی یہی ہے کہ کسی ادارے کی ما تحتی کے بغیر انفرادی طور پر کام کرنے والے لوکل اور پرائیویٹ ڈرائیورز کو بغیر کسی معاہدے کے غیر حاضری اور لمبی چھٹیوں کی تنخواہ اور عوض نہیں دی جاتی، البتہ اگر کوئی ٹیچر پڑھائی کے اوقات میں غیر حاضر رہے لیکن ڈرائیور حاضر ہو، تو اس صورت میں ڈرائیور کی تنخواہ میں سے کٹوتی کرنا جائز نہیں ہوگی۔
نیز باقی اساتذہ کا سائل کی ماہانہ تنخواہ میں سے پیسے نہ کاٹنا، ان کی جانب سے سائل (ڈرائیور) پر تبرع اور احسان ہے۔ نیز چونکہ اسکولوں کا ضابطہ اور عرف یہ ہے کہ سالانہ یا دیگر چھٹیوں کی تنخواہ اساتذہ کو دی جاتی ہے، لہذا اسکول کا مذکورہ ٹیچر کو چھٹیوں کی تنخواہ دینا جائز ہے، اور اگر اسکول کا یہ ضابطہ اور عرف نہ بھی ہو تب بھی یہ تنخواہ دینا اسکول کی جانب سے اساتذہ پر تبرع اور احسان ہے۔
اور سائل کا یہ کہنا کہ "یہ معاہدہ نہیں ہوا کہ جس دن میں نہ آ سکوں یا چھٹی کے دن ہو تو تنخواہ میں سے کٹوتی ہوگی یا نہیں" مذکورہ ایام کی اجرت کے استحقاق کی دلیل نہیں ہے، کیونکہ معاہدہ یہی ہوا تھا کہ پڑھائی کے اوقات میں حاضر ہو کر لے کر جانے اور واپس لانے کی مزدوری کے عوض پیسے ملیں گے، جبکہ سائل نے چھٹیوں اور غیر حاضری کے ایام میں حاضر ہو کر کوئی مزدوری نہیں کی ہے۔ تاہم شریعت نے طرفین کو اختیار دیا ہے کہ تنخواہ کے بارے میں باہمی رضامندی سے چھٹی یا تاخیر کی صورت میں جو جائز ضابطہ بناکر آپس میں طے کرلیں اس کی شرعاً اجازت ہوگی۔
سنن ترمذی میں ہے:
"حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن أبيه عن جده: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: (الصلح جائز بين المسلمين، إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما، والمسلمون على شروطهم، إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما). هذا حديث حسن صحيح".
(أبواب الأحكام، ج:3، ص:185، الرقم:1402، ط:دار الرسالة العالمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى... وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل... (قوله لواحد) أي لمعين واحدا أو أكثر. قال القهستاني: لو استأجر رجلان أو ثلاثة رجلا لرعي غنم لهما أو لهم خاصة كان أجيرا خاصا كما في المحيط وغيره... (قوله وإن لم يعمل) أي إذا تمكن من العمل، فلو سلم نفسه ولم يتمكن منه لعذر كمطر ونحوه لا أجر له كما في المعراج عن الذخيرة. (قوله للخدمة) أي لخدمة المستأجر وزوجته وأولاده... وقوله بعد ذلك لترعى الغنم يحتمل أن يكون لإيقاع العقد على العمل فيصير أجيرا مشتركا؛ لأنه من يقع عقده على العمل، وأن يكون لبيان نوع العمل الواجب على الأجير الخاص في المدة، فإن الإجارة على المدة لا تصح في الأجير الخاص ما لم يبين نوع العمل؛ بأن يقول: استأجرتك شهرا للخدمة أو للحصاد فلا يتغير حكم الأول بالاحتمال فيبقى أجير وحد ما لم ينص على خلافه... (قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة".
(كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج:6، ص:69-70، ط:دار الفكر)
الاشباہ و النظائر میں ہے:
"العادة محكمة، وأصلها قوله -عليه الصلاة والسلام-: (ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن)... إنما تعتبر العادة إذا اطردت أو غلبت... إنما هو في المدرس للمدرسة لا في كل مدرس، فخرج مدرس المسجد كما هو في مصر... العادة المطردة هل تنزل منزلة الشرط؟ قال في إجارة الظهيرية: المعروف عرفا كالمشروط شرعا".
(الفن الأول، النوع الأول، القاعدة السادسة، ص:79، ط:دار الكتب العلمية)
فقط و الله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710100690
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن