
ہم نے قربانی کے جانور میں صرف عقیقہ کا حصہ ڈالا ہے، اس جانور میں ہمارا قربانی کا حصہ نہیں ہے۔ اب کوئی کہہ رہا ہے کہ عقیقہ تب درست ہوگا جب اسی جانور میں آپ کے قربانی کا حصہ بھی ہو۔ اب میرے شوہر کی اتنی استطاعت نہیں کے قربانی کے لیے بھی حصہ ڈالیں نا کوئی سیونگ نا اور کچھ۔ اب کیا اس جانور میں عقیقہ درست نہیں ہوگا؟ یا اس کی جگہ قربانی کی نیت کریں؟ کیونکہ جانور بھی آگیا ہے ، اب اگر حصہ اس جانور میں نہ رکھیں تو کیا کوئی مسئلہ ہوگا ؟
عقیقے کی نیت سے خریدے گئے جانور میں قربانی کی نیت کرنا جائز ہے، ضروری نہیں، لہذا اگر جانور بڑا ہو یعنی گائے یا اونٹ اور وہ پورا عقیقے میں ذبح کردیا جائے تو جائز ہے، گر چہ اس جانور میں قربانی کا حصہ نہ ڈالا ہو۔
لہذا اگرآپ کے شوہر نصاب ( ذمہ میں واجب الادا اخراجات منہا کرنے کے بعد ضرورت سےزائد اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہو (خواہ ضرورت سے زائد مال نقدی ہو یا سونا چاندی ہو یا کسی اور شکل میں ہو، اسی طرح مالِ تجارت نہ بھی ہو) کے مالک نہیں ہیں تو ان پر قربانی واجب نہیں، اور اس جانور میںقربانی کی نیت کرنا ضروری نہیں ہے۔
فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
"ولو أرادوا القربة - الأضحية أو غيرها من القرب - أجزأهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجب على البعض دون البعض، وسواء اتفقت جهات القربة أو اختلفت بأن أراد بعضهم الأضحية وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم هدي الإحصار وبعضهم كفارة عن شيء أصابه في إحرامه وبعضهم هدي التطوع وبعضهم دم المتعة أو القران وهذا قول أصحابنا الثلاثة رحمهم الله تعالى، وكذلك إن أراد بعضهم العقيقة عن ولد ولد له من قبل، كذا ذكر محمد - رحمه الله تعالى - في نوادر الضحايا."
(کتاب الأضحیة، الباب الثامن فيما يتعلق بالشركة في الضحايا، ج: 5، ص: 304، ط: رشیدیة)
رد المحتار میں ہے:
"وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل ؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد."
(کتاب الأضحیة، ج:6، ص:326، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144712100435
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن