بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ذو الحجة 1447ھ 11 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا قربانی کے گوشت کا ایک تہائی حصہ صدقہ کرنا واجب ہے؟


سوال

کیا قربانی کے گوشت کا ایک تہائی صدقہ کرنا واجب ہے؟ہمارے ہاں اس کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔

جواب

قربانی کرنے والا  اگرصاحبِ استطاعت و  مالدار  ہو ، تو اس کے لیے افضل یہ ہے کہ وہ قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرے: ایک حصہ صدقہ کرے، ایک حصہ رشتہ داروں اور دوست احباب میں تقسیم کرے، اور ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے رکھے ۔

البتہ اگر قربانی کرنے والا صاحبِ عیال اور مالی طور پر کمزور ہو تو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ قربانی کا   پورا گوشت اپنے اہل و عیال کے لیے محفوظ رکھے۔

ملحوظ  رہے کہ یہ تقسیم مستحب  ہے، فرض یا واجب نہیں، سارا گوشت  صدقہ کرنا،یا سارا گوشت رشتہ داروں میں تقسیم کرنا، یا سارا گوشت خود رکھ لینا سب جائز ہے، لہذا  ایک تہائی گوشت تقسیم کرنے کو ضروری سمجھنا  شرعا غلط ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في البدائع: ‌والأفضل ‌أن ‌يتصدق ‌بالثلث ويتخذ الثلث ضيافة لأقربائه وأصدقائه ويدخر الثلث؛ ويستحب أن يأكل منها، ولو حبس الكل لنفسه جاز لأن القربة في الإراقة والتصدق باللحم تطوع (قوله وندب تركه) أي ترك التصدق المفهوم من السياق (قوله لذي عيال) غير موسع الحال بدائع."

(كتاب الأضحية،ج: 6،ص: 328،ط: دار سعيد)

فتاوی  ہندیہ میں ہے:

"والأفضل ‌أن ‌يتصدق ‌بالثلث ‌ويتخذ ‌الثلث ‌ضيافة ‌لأقاربه ‌وأصدقائه، ‌ويدخر ‌الثلث، ‌ويطعم ‌الغني ‌والفقير ‌جميعا، كذا في البدائع. ويهب منها ما شاء للغني والفقير والمسلم والذمي، كذا في الغياثية.

 ولو تصدق بالكل جاز، ولو حبس الكل لنفسه جاز، وله أن يدخر الكل لنفسه فوق ثلاثة أيام إلا أن إطعامها والتصدق بها أفضل إلا أن يكون الرجل ذا عيال وغير موسع الحال فإن الأفضل له حينئذ أن يدعه لعياله ويوسع عليهم به، كذا في البدائع."

(كتاب الأضحية،ج: 5،ص: 300،ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100392

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں