بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیاقرضہ دیرتک وصول نہ کرنے پرساکت ہوں گے؟


سوال

میرےایک  دوست نے ایک کرکٹ ٹیم بنائی اور میں بھی اس میں شامل ہوگیا،شرط یہ تھی کہ جوبھی شامل ہوگا،وہ انٹری فیس کے نام سے ایک ہزارروپے جمع کرے گا،تاکہ ان پیسوں سے کرکٹ کاسامان وغیرہ خریدےجائیں،یہ سلسلہ چلتارہا آٹھ ہزارروپے جمع ہوئےباقی چارہزارروپے باقی تھےاس لیے کہ مکمل سامان بارہ ہزارکاتھا،میں نے چارہزارروپے مزید اس منتظم (کیپٹن)کودےدیئےاور میں نے یہ کہاکہ جوبھی نیابندہ ٹیم میں آئے گاوہ انٹری فیس جمع کرےگا،آپ اس کے انٹری فیس لےکرمجھےدےدینااورمیرے چارہزارروپےپوراکردینا،دوست (کیپٹن) نےسامان خریداکھیل شروع ہوا،لوگ شامل ہوتےرہے،لیکن میں نے اپنے پیسوں کامطالبہ نہیں کیا،اب میں نے اس ٹیم کوچھوڑکرجب اس دوست سے اپنے چارہزارکامطالبہ کیاتواس نے کہاکہ تمہاراکوئی حق نہیں بنتا،اس لیےکہ تم نے بھی توسامان کواستعمال کیاہے،اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کٹ مٰیں سے تھوڑاساسامان لےلو پیسوں کےبدلے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیامیرے دوست کے ذمہ اب بھی میرےچارہزارہےیانہیں ؟کیاشرعاًوہ اس کاپابندہوگاکہ میراچارہزارمجھےدےیانہیں؟

جواب

جواب صور ت مسئولہ میں سائل نے جوایک ہزارروپے اس ٹیم میں انٹری فیس دیاہے ،اب اگر سائل اس ٹیم سے نکل رہاہے تواس ہزارروپےکے بدلےمیں  پیسہ وصول نہیں کرسکتابلکہ اس کےبدلےمیں لیےگئےسامان سے کچھ لےسکتاہے،باقی جوچارہزارروپے سائل نے دیاہے اس شرط کےساتھ کہ جب لوگ آکرٹیم میں شامل ہوں گے توان سے انٹری فیس لےکرمیرے چارہزارمکمل مجھےدےدینا،یہ سائل کی طرف سے قرض ہوں گے،اتنی مدت  تک سائل کے طلب نہ کرنے پرقرض ساقط نہیں ہوگااب سائل کے ساتھی نے جب آٹھ ہزار کے بعد مزید ممبران سے چار ہزار یا اس سے زائد رقم لی تو اب اس  کے ذمہ لازم ہے کہ وہ سائل  کوچارہزارروپے دے،نہ دینے پرگہنگارہوگا۔

دررالحكام شرح المجلة الأحكام لعلي حيدرميں هے:

"كذلك لو أعطى أحد لآخر نقودا قائلا له: اصرف هذه على مصارفك أو حوائجك أو على الغزاة ولم يذكر بأن ذلك قرض أو هبة وقبض المذكور ذلك فلا يكون هبة بل يكون قرضا."

(کتاب العاشرالشرکات، الباب الأول،خاتمة في حق احكام القرض، ج:3، ص:82، ط:دارالجیل)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100286

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں