
کیا پاکستان اور سعودی عرب کا عرفہ کا دن الگ الگ ہوسکتاہے؟ پاکستان میں عرفہ کب ہوگا؟
1۔واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا عرفہ کا دن الگ الگ ہوسکتا ہے، یعنی ایسا ہوسکتا ہے کہ وہاں عرفہ کا دن ہو اور پا کستان میں اس سے اگلے دن ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ملکوں میں ایک ہی ساتھ عرفہ کا دن آجاۓ۔
زیر نظر مسئلہ کا دارومدار ا س بات پر ہے کہ سعودی عرب کی رؤیتِ ہلال دیگر ممالک کے حق میں معتبرہے یا نہیں؟ اس بارے میں احناف کا راجح قو ل یہ ہے کہ بلادِبعیدہ جن کےطلوع وغروب میں کافی فرق پایاجاتا ہے ان کی رؤیت ایک دوسرے کے حق میں معتبر نہیں ہے، جبکہ سعودی عرب اور دیگر ممالک کے مطلع میں کا فی فرق ہے،اور پانچ سومیل کے بعد مطلع تبدیل ہوجاتا ہے، لہذا جس طرح نماز وں کے اوقات تہجد اور سحر و افطاروغیرہ میں ہر ملک کا اپنا وقت معتبر ہے، سعودی عرب میں نمازوں کے اوقات کو دیگر ممالک میں نمازوں کے لیے معیار قرار نہیں دیا جاسکتا ، اسی طرح عید ،روزہ اور قربانی میں بھی ہر ملک کی اپنی رؤیت کا اعتبارہوگا ،اور عرفہ کے دن کے بارے میں بھی ہر ملک کی اپنی رؤیت معتبرہوگی، لہذا جس دن دیگر ممالک کے حساب سے ذو الحجہ کی نویں تاریخ ہوگی اسی دن ان ممالک میں یومِ عرفہ ہوگا، اگر چہ اس دن سعودی عرب میں عید کا دن ہو، لیکن اس سال 1447ھ میں چونکہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں میں ذوالحجہ کا چاند ایک ساتھ نظر آیا، اس لیے دونوں کا عرفہ کا دن بھی ایک ساتھ ہوگا۔
تبيين الحقائق میں ہے:
"قال رحمه الله (ولا عبرة باختلاف المطالع) وقيل يعتبر ومعناه أنه إذا رأى الهلال أهل بلد ولم يره أهل بلدة أخرى يجب أن يصوموا برؤية أولئك كيفما كان على قول من قال لا عبرة باختلاف المطالع وعلى قول من اعتبره ينظر فإن كان بينهما تقارب بحيث لا تختلف المطالع يجب وإن كان بحيث تختلف لا يجب وأكثر المشايخ على أنه لا يعتبر حتى إذا صام أهل بلدة ثلاثين يوما وأهل بلدة أخرى تسعة وعشرين يوما يجب عليهم قضاء يوم والأشبه أن يعتبر لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم وانفصال الهلال عن شعاع الشمس يختلف باختلاف الأقطار كما أن دخول الوقت وخروجه يختلف باختلاف الأقطار حتى إذا زالت الشمس في المشرق لا يلزم منه أن تزول في المغرب
وكذا طلوع الفجر وغروب الشمس بل كلما تحركت الشمس درجة فتلك طلوع فجر لقوم وطلوع شمس لآخرين وغروب لبعض ونصف ليل لغيرهم وروي أن أبا موسى الضرير الفقيه صاحب المختصر قدم الإسكندرية فسئل عمن صعد على منارة الإسكندرية فيرى الشمس بزمان طويل بعدما غربت عندهم في البلد أيحل له أن يفطر فقال لا ويحل لأهل البلد لأن كلا مخاطب بما عنده والدليل على اعتبار المطالع ما روي عن كريب أن أم الفضل بعثته إلى معاوية بالشام فقال فقدمت الشام وقضيت حاجتها واستهل علي شهر رمضان وأنا بالشام فرأيت الهلال ليلة الجمعة ثم قدمت المدينة في آخر الشهر فسألني عبد الله بن عباس ثم ذكر الهلال فقال متى رأيتم الهلال فقلت رأيناه ليلة الجمعة فقال أنت رأيته فقلت نعم ورآه الناس وصاموا وصام معاوية فقال لكنا رأيناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين أو نراه فقلت أولا نكتفي برؤية معاوية وصيامه فقال لا هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في المنتقى رواه الجماعة إلا البخاري وابن ماجه."
( كتاب الصوم، ج: 2، ص: 164، ط: سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"هذا إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع، فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر."
( كتاب الصوم، فصل شرائط أنواع الصيام، ج: 2، ص: 83، ط: سعيد)
معارف السنن میں ہے:
"و حققوا اوقوع الاختلاف في المطلع بنحو خمسمائة ميل·"
(كتاب الصوم، ج: 5، ص: 343، ط: مجلس الدعوة و التحقيق)
2۔ پاکستان میں عرفہ کا دن نو ذوالحجہ کو ہوگا۔
البنایہ شرح الھدایہ میں ہے:
"وعرفة اسم اليوم التاسع من ذي الحجة."
( كتاب الحج، دخول الآفاقي مكة بدون إحرام، ج: 4، ص: 166، ط: دارالكتب العلميه)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102404
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن