بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عورت تراویح پڑھا سکتی ہے


سوال

کیا عورت تراویح پڑھا سکتی ہے؟

جواب

عورت کا امام بن کر نماز پڑھانا چاہے تراویح کی نماز ہو یا کوئی اور نماز ہو ،درست نہیں ہے، عورت کی اقتدا ءمیں مردوں  کی  تونماز ادا  ہی نہیں ہوگی،اسی طرح عورت کا صرف عورتوں کے لیے امام بننا بھی مکروہ تحریمی ہے۔

نیز اگر تراویح کا اہتمام اس طرح کیاجائے کہ دیگر گھروں سے بھی عورتیں آکر اس عورت کے پیچھے تراویح پڑھیں تو اس میں اور بھی بہت سے مفاسد و خرابیاں ہیں،اس لیے ایسا کرنا جائز نہیں۔

خواتین کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ تنہا اپنی نماز ادا کریں ، تراویح کی جماعت نہ کریں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) يكره تحريما (جماعة النساء) ولو التراويح ... قوله: و لو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرضًا أو نفلًا".

(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:565، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100338

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں