
کیا عورت تراویح پڑھا سکتی ہے؟
عورت کا امام بن کر نماز پڑھانا چاہے تراویح کی نماز ہو یا کوئی اور نماز ہو ،درست نہیں ہے، عورت کی اقتدا ءمیں مردوں کی تونماز ادا ہی نہیں ہوگی،اسی طرح عورت کا صرف عورتوں کے لیے امام بننا بھی مکروہ تحریمی ہے۔
نیز اگر تراویح کا اہتمام اس طرح کیاجائے کہ دیگر گھروں سے بھی عورتیں آکر اس عورت کے پیچھے تراویح پڑھیں تو اس میں اور بھی بہت سے مفاسد و خرابیاں ہیں،اس لیے ایسا کرنا جائز نہیں۔
خواتین کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ تنہا اپنی نماز ادا کریں ، تراویح کی جماعت نہ کریں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) يكره تحريما (جماعة النساء) ولو التراويح ... قوله: و لو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرضًا أو نفلًا".
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:565، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100338
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن