
ایک پلاٹ رہائشی مکان بنانے کی نیت سے خریدا گیا تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہاں تعمیر ممکن نہیں، اس لیے مکان بنانے کا ارادہ ترک کر دیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ پلاٹ ضروریاتِ اصلیہ میں شمار ہوگا یا نہیں؟ یعنی کیا اس کی مالیت قربانی کے نصاب میں شامل کی جائے گی یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جب مکان بنانے اور اس میں رہائش اختیار کرنے کا ارادہ ختم ہو گیا، تو یہ پلاٹ ضروریاتِ اصلیہ میں شامل نہیں رہا۔
لہٰذا اب اس کی موجودہ مالیت قربانی کے نصاب میں شمار کی جائے گی، اور اگر مجموعی مالیت نصاب تک پہنچ جائے تو قربانی واجب ہوگی۔ البتہ اس پلاٹ کی مالیت پر زکات واجب نہیں ہوگی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
(وأما) (شرائط الوجوب):منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة... والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها، فأما ما عدا ذلك من سائمة أو رقيق أو خيل أو متاع لتجارة أو غيرها فإنه يعتد به من يساره."
(كتاب الأضحية، الباب الأول في تفسير الأضحية وركنها وصفتها وشرائطها وحكمها، ج:5، ص:292، ط:رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الأنثى)، خانية. (قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً."
(کتاب الاضحیة، ج:6، ص:312، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان."
(کتاب الزکوۃ، الباب الثامن في صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:رشیدیة)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144612100670
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن