
میں ملائیشیا میں مقیم ہوں، ہمارے ہاسٹل کی مسجد میں ایک غیر مسلم بچہ آکر صف میں کھڑا ہو جاتا ہے اور نمازیوں کے ساتھ نماز کے سارے ارکان پورے کرتا ہے؟ کیا اس سے نماز میں کوئی فرق پڑے گا یا نہیں؟ اور ہمارے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟
واضح رہے کہ غیر مسلم عام مسجدوں میں داخل ہوسکتے ہیں، چاہے مسلمانوں کی نماز دیکھیں یا نمازیوں کے ساتھ صف میں کھڑا ہوجائیں یا مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شامل ہو کر نماز کے ارکان ادا کریں، اُنہیں بلاوجہ منع نہیں کرنا چاہیے،ممکن ہے اس طرح کرنے کو اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کا ذریعہ بنادے۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں غیر مسلم بچے کے نماز کے دوران آکر صف میں کھڑے ہونےاور نماز کے مکمل ارکان ادا کرنے سے بقیہ مسلمانوں کی نماز میں اس کی وجہ سےکوئی فرق نہیں آئےگا، بشرط یہ کہ اس کے بدن اور کپڑوں پرکوئی نجاست نظر نہ آتی ہو۔ اور مسجد میں نماز پڑھنے والے مسلمانوں کو چاہیے کہ بلا وجہ اس کو مسجد اور نماز سے نہ روکیں، اوراس کے ساتھ نہایت حسن سلوک اور اخلاق کے ساتھ پیش آنے کی کوشش کریں، ممکن ہے اللہ تعالیٰ مستقبل میں اُسے ہدایت عطا فرمادیں۔
الدراية في تخريج أحاديث الهداية میں ہے:
" ... وفي الباب عن عطية بن سفيان بن عبد الله الثقفي قال قدم وفد من ثقيف في رمضان على رسول الله صلى الله عليه وسلم فضرب لهم قبة في المسجد فلما أسلموا صاموا معه."
(كتاب الكراهية، ج: 2،ص: 238، ط: دارالمعرفة )
فتح باب العناية بشرح النقاية میں ہے:
" ولا يكره عندنا دخول الذميّ المسجد الحرام، وكرهه الشّافعيّ لقوله تعالى: {إنَّمَا المُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا المَسْجِدَ الحَرَام بَعْدَ عَامِهِمْ هَذا} [التوبة: 28]، ولأنّ الكافر لا يخلو عن جنابة.وأُجيبَ بأنّه محمولٌ على منعهم أَنْ يدخلوه طائفين عراةً، أو مستولين، وعلى أهل الإسلام مستعلين، وبأنّ النجاسة محمولةٌ على خبث عقائدهم، وكرهه مالك في كل مسجد اعتباراً بالمسجد الحرام لعموم العلة وهي النجاسة.
ولنا: ما في سنن أبي داود عن عثمان بن أبي العاص أنّ وفد ثقيف لمّا قدموا على النبيّ صلى الله عليه وسلم أنزلهم المسجد ليكون أرقّ لقلوبهم، فاشترطوا عليه أنْ لا يُحْشَرُواولا يُعْشَرُوا ولا يُجَبَّوا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لكم أنْ لا تُحْشَروا ولا تُعْشَروا، ولا خير في دين ليس فيه ركوع. والتجبية بالجيم والموحدة وضع اليدين على الركبتين. وفي مراسيله عن الحسن أنّ وَفْدَ ثقيف أتوْا رسول الله، صلى الله عليه وسلم فضرب لهم قُبْة في مؤخر المسجد لينظروا صلاة المسلمين، فقيل له: يا رسول الله أتنزلهم في المسجد وهم مشركون؟ قال: إن الأرض لا تتنجس بابن آدم."
(كتاب الكراهية، مسائل شتى ّ،ج: 3، ص: 29،ط: دار الأرقم بيروت )
مراسيل امام أبو داود میں ہے:
" أن أبا سفيان، كان يدخل المسجد بالمدينة وهو كافر، غير أن ذلك لا يصلح له في المسجد الحرام، لما قال الله عز وجل {إنما المشركون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام} [التوبة: 28] ."
( من الصلاة، ص: 80، ط: مؤسسة الرسالة )
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101034
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن